اخلاقیات
کعبۃاللہکیطرفپاؤںکرکےلیٹنا
سوال:۔
کعبے کی طرف پاؤں کرکے لیٹنے سے گناہ ہوتا ہے، منع ہے، یا اِحتراماً نہیں لیٹنا چاہئے؟
جواب:۔
کعبہ شریف کی طرف پاؤں نہ کرنا، اس کے اِحترام کی بنا پر ہے، اور کعبہ شریف کی بے حرمتی گناہ ہے، ایک شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مسجد کا اِمام مقرّر فرمایا تھا، اس نے قبلے کی طرف تھوک دیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اِمامت سے معزول کردیا۔(۱)
- (۱) عن السائب بن خلّاد وھو رجل من أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ان رجلًا أَمّ قوم فبصق فی القبلۃ ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینظر، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقومہ حین فرغ: لَا یصلی لکم فأراد بعد ذالک ان یصلی لھم فمنعوہ فأخبروہ بقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فذکر ذالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: وحسبت انہ قال: إنک قد آذیت اللہ ورسولہ۔ رواہ ابوداوٗد۔ (مشکٰوۃ ص:۷۱، باب المساجد ومواضع الصلاۃ، الفصل الثانی)۔

