بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

’’تم‌مدرسے‌میں‌نہ‌پڑھو،‌پڑھ‌کر‌کیا‌کروگے؟‘‘‌کہنے‌والے‌کو‌کتنا‌گناہ‌ہوگا؟

سوال:۔

بعض دفعہ اِنسان جانتے ہوئے بھی یا اچانک اس سے ایسے ایسے زبان سے الفاظ نکلتے ہیں، مثال کے طور پر اگر کسی نے پوچھا: تم کیا کرتے ہو؟ تو جواب میں کہا: کچھ نہیں! حتیٰ کہ کچھ کرتا ضرور ہے۔ اسی طرح کسی نے کہا: تمہارے پاس پیسے ہیں؟ کہا: نہیں! اور پیسے ہوتے ہیں۔ یا اسی طرح کسی کو کہہ دیا کہ: تم مدرسے میں نہ پڑھو۔ یا: کیا کروگے پڑھ کر؟ یا: علماء گہرائی تک نہیں پہنچاتے۔ الغرض! اسی طرح دُوسرے الفاظ بھی، اگر اِنسان سے ایسی غلطیاں ہوجائیں، دُوسرا شخص اس پر عمل کرلے، جیسے تم مدرسے میں نہ پڑھو، یا قرآن نہ پڑھو، یا عالم بن کر کیا کروگے؟ تو اس کا گناہ بھی اس شخص کو ہوگا جس نے یہ لفظ کہے جو اس پر عمل کرتا ہے اور اسے تعلیم نہ حاصل کرنے کا اجر ملے گا اور ایسا شخص خود تعلیم دِین حاصل کرے تو اس کو اس کا اجر ملے گا یا اس کا ثواب جسے تعلیم سے روکا اس کو دے دیا جائے گا؟ جب انسان سے ایسے الفاظ گناہ کے نکل جائیں یا وہ جان بوجھ کر کہہ دے تو اسے کیا کرنا چاہئے کہ اس کے یہ گناہ (غلطیاں) معاف ہوجائیں؟ اور دُوسرے کا اس کی بات پر عمل کرنے کا گناہ بھی اس پر نہ پڑے؟

جواب:۔

ایسے گناہ کے الفاظ نکالنے پر توبہ کرنی چاہئے۔ حدیث شریف میں ہے کہ لوگوں کو زبان کے الفاظ ہی اوندھے منہ دوزخ میں ڈالیں گے۔(۱) اگر ایسے شخص کے کہنے پر دِینی تعلیم چھوڑ دی تو کہنے والے کو بھی گناہ ہوگا، اور اس کے کہنے پر عمل کرنے والے کو بھی۔(۲)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن العبد لیتکلم بالکلمۃ ۔۔۔ وإن العبد لیتکلم بالکلمۃ من سخط اللہ لَا یلقٰی لھا بالًا یھوی بھا فی جھنم۔ رواہ البخاری۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۱، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)۔
  2. (۲) من سنّ سُنَّۃ حسنۃ عمل بھا من بعدہ کان لہ أجرھا ۔۔۔ ومن سنّ سُنَّۃ سیئۃ فعمل بھا بعدہ کان علیہ وزرہ ۔۔۔إلخ۔ (کنز العمال ج:۱۵ ص:۷۸۰، أیضًا: مشکٰوۃ ص:۳۳، کتاب العلم، الفصل الأوّل)۔