اخلاقیات
تکبرکیاہے؟
سوال:۔
آپ نے اسلامی صفحے کا آغاز کیا ہے، یہ سلسلہ بہت پسند آیا، ہماری طرف سے مبارک باد قبول کیجئے۔ اگر آپ تکبر پر روشنی ڈالیں تو مہربانی ہوگی۔
جواب:۔
تکبر کے معنی ہیں: کسی دِینی یا دُنیوی کمال میں اپنے کو دُوسروں سے اس طرح بڑا سمجھنا کہ دُوسروں کو حقیر سمجھے۔ گویا تکبر کے دو جز ہیں:
۱:۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھنا۔ ۲:۔ دُوسروں کو حقیر سمجھنا۔
تکبر بہت ہی بُری بیماری ہے، قرآن و حدیث میں اس کی اتنی بُرائی آتی ہے کہ پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔(۱) آج ہم میں سے اکثریت اس بیماری میں مبتلا ہے، اس کا علاج کسی ماہر رُوحانی طبیب سے باقاعدہ کرانا چاہئے۔
- (۱) ﵟ وَلَا تَمۡشِ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَرَحًاۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٖ ﵞ سورة لقمان ١٨۔ أیضًا: عن ابن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یدخل الجنّۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرّۃ من کبر ۔۔۔ الکبر بطر الحق وغمط الناس ۔۔۔إلخ۔ وعن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یقول اللہ تعالٰی: الکبریاء ردائی، والعظمۃ إزاری، فمن نازعنی واحدًا منھما ادخلتہ النار، وفی روایۃ: قذفتہ فی النار۔ (مشکٰوۃ ص:۴۳۳، باب الغضب والکبر، الفصل الأوّل)۔

