بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

باہم‌ناراضگی‌والوں‌میں‌سے‌جو‌بھی‌پہل‌کرے‌گا‌گناہ‌سے‌بچ‌جائے‌گا

سوال:۔

’’مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے قطع تعلق کرے۔‘‘ یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی ہے۔ اگر ہماری کسی سے ناراضگی ہو، چاہے غلطی کسی کی بھی ہو، لیکن اگر ایک فریق بات میں پہل کرے یا بات کرے، لیکن دُوسرا فریق بات نہ کرے، کیا جو شخص بات کرلیتا ہے وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگیا یا کیا کرے؟ جبکہ دُوسرا بات نہیں کرتا۔

جواب:۔

یہ گناہ سے بچ جائے گا اور دُوسرا گناہگار رہے گا۔(۱)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یحل لمؤمن أن یھجر مؤمنا فوق ثلاث، فإن مرت بہ ثلاث فلیلقہ فلیسلم علیہ فإن رد علیہ السلام فقد اشترکا فی الأجر، وإن لم یرد علیہ فقد باء بالْإثم وخرج المسلم من الھجرۃ۔ رواہ أبوداوٗد۔ (مشکٰوۃ ص:۴۲۸، باب ما ینھی عنہ من التھاجر والتقاطع واتباع العورات، الفصل الثانی)۔