اخلاقیات
جبکسیکیغیبتہوجائےتوفوراًاسسےمعافیمانگلےیااسکےلئےدُعائےخیرکرے
سوال:۔
مولانا صاحب! میں نے خدا تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ کسی کی غیبت نہیں کروں گی، لیکن دوبارہ اس عادتِ بد میں مبتلا ہوگئی ہوں۔ فی زمانہ یہ بُرائی اس قدر عام ہے کہ اس کو بُرائی نہیں سمجھا جاتا۔ میں اگر خود نہ کروں تو دُوسرے لوگ مجھ سے باتیں کرتے ہیں، نہ سنوں تو نک چڑھی کہلاتی ہوں۔ آپ برائے مہربانی فرمائیے کہ میں کس طرح اس عادتِ بد سے چھٹکارا حاصل کروں؟ عہد توڑنے کا کیا کفارہ ادا کروں؟
جواب:۔
عہد توڑنے کا کفارہ تو وہی ہے جو قسم توڑنے کا ہے۔(۱) یعنی دس مسکینوں کو دو وقتہ کھانا کھلانا، اور اس کی طاقت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھنا۔(۲) باقی غیبت بہت بڑا گناہ ہے، حدیث میں اس کو زِنا سے بدتر فرمایا ہے۔(۳) اس بُری عادت کا علاج بہت اہتمام سے کرنا چاہئے اور اس میں کسی کی ملامت کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ اور اس کا علاج یہ ہے کہ اوّل تو آدمی یہ سوچے کہ میں کسی کی غیبت کرکے ’’مردہ بھائی کا گوشت‘‘ کھا رہا ہوں،(۴) اور یہ کہ میں اپنی نیکیاں اس کو دے رہا ہوں،(۵) اور یہ خالص حماقت ہے کہ جس کی بُرائی کر رہا ہے اس کو اپنی نیکیاں دے رہا ہے۔ دُوسرے جب کسی کی غیبت ہوجائے تو فوراً اس سے معافی مانگ لے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس کے لئے دُعائے خیر کرے،(۶) اِن شاء اللہ تعالیٰ اس تدبیر سے یہ عادت جاتی رہے گی۔
- (۱)ﵟ وَأَوۡفُواْ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ إِذَا عَٰهَدتُّمۡ ﵞ الآیۃ قال الشعبی العھد یمین وکفارتہ کفارۃ یمین۔ (تفسیر مظھری ج:۵ ص:۳۶۵، أیضًا: ھدایۃ ج:۲ ص:۴۸۰)۔
- (۲) ﵟ فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنۡ أَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُونَ أَهۡلِيكُمۡ أَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ أَوۡ تَحۡرِيرُ رَقَبَةٖۖ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖۚ ذَٰلِكَ كَفَّٰرَةُ أَيۡمَٰنِكُمۡ إِذَا حَلَفۡتُمۡ ﵞ سورة المائدة ٨٩
- (۳) وعن أبی سعید وجابر قالَا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الغیبۃ أشد من الزنا ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۵، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم، الفصل الثالث)۔
- (۴) ﵟ وَلَا يَغۡتَب بَّعۡضُكُم بَعۡضًاۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمۡ أَن يَأۡكُلَ لَحۡمَ أَخِيهِ مَيۡتٗا فَكَرِهۡتُمُوهُۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ﵞ سورة الحجرات ١٢
- (۵) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: رحم اللہ عبدًا کانت لأخیہ عندہ مظلمۃ فی عرض أو مال فجائہ فاستحلّہ قبل أن یؤخذ ولیس ثَم دینار ولَا درھم فإن کانت لہ حسنات اُخذ من حسناتہ وإن لم تکن لہ حسنات حملوا علیہ من سیئاتھم۔ (ترمذی شریف ج:۲ ص:۱۶۷، أبواب صفۃ القیامۃ)۔
- (۶) عن أنس أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: انّ من کفارۃ الغیبۃ أن یستغفر لمن اغتبہ تقول: اللّٰھم اغفر لنا ولہ۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۴۱۵، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم، الفصل الثالث)۔

