اخلاقیات
فوٹووالےبورڈوالیکمپنیکےخلافتقریرغیبتنہیں
سوال:۔
ایک محترمہ مبلغ نے خواتین کے اجتماع کے سامنے اشتہاری بورڈ (جس پر عورت کا فوٹو بنا ہوتا ہے) کو تقریر کا موضوع بنایا، ایک کمپنی کا نام لے کر اس پر تنقید کی اور یہاں تک کہہ گئیں کہ: ’’سفید داڑھی والے عورتوں کی کمائی کھاتے ہیں‘‘ پکار کر کہا کہ: ’’اگر کوئی فلاں کمپنی والوں کی رشتہ دار یہاں موجود ہے تو ہمارا پیغام ان کو پہنچادے‘‘ خواتین نے ایک خاتون کی طرف اشارہ کیا کہ یہ ان کی رشتہ دار ہے، سو اس خاتون نے وعدہ کیا کہ میں آپ کا پیغام پہنچادُوں گی۔ یہ واقعہ ایک جمعہ کو ہوا، ہفتے کو کمپنی کے مالک کو معلوم ہوا، مذکورہ بورڈ اس کی اطلاع میں نہیں تھا، بہرحال بورڈ فوراً صاف کرادیا گیا۔ آئندہ بدھ کو پھر اسی محترمہ نے ایک دُوسرے علاقے میں تقریر کی، اسی بورڈ کو موضوعِ تقریر بنایا، وہی سوال کیا کہ اگر ان کا کوئی رشتہ دار یہاں ہے تو ہمارا پیغام پہنچادے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جمعہ کے دن جو پہلی تقریر کی تھی وہ غیبت ہے جو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے؟ اور جو بدھ کو تقریر کی تھی وہ بہتان ہے، کیونکہ بورڈ اس سے قبل بالکل مکمل طور پر مٹایا جاچکا تھا؟
جواب:۔
جو گناہ اعلانیہ کیا جاتا ہو، اس کو بیان کرنا غیبت نہیں،(۱) اس لئے اس خاتون کی پہلی تقریر صحیح تھی اور یہ غیبت کے ذیل میں نہیں آتی۔ بورڈ صاف کرکے اگر اس خاتون کو اطلاع نہیں کی گئی تھی تو اس خاتون کی بدھ کی تقریر بھی صحیح تھی، کیونکہ ضروری نہیں کہ اس کو بورڈ کے صاف کردئیے جانے کا علم بھی ہوگیا ہو، اس میں قصور اس خاتون کا نہیں بلکہ کمپنی والوں کا ہے۔
- (۱) فتباح غیبۃ مجھول ومتظاھر بقبیح ولمصاھرۃ ولسود إعتقاد تحریزًا منہ۔ (درمختار)۔ وفی تنبیہ الغافلین للفقہ أبواللیث: الغیبۃ علٰی أربعۃ أوجہ ۔۔۔إلخ۔ ھی مباح وھو ان یغتاب معلنًا بفسقہٖ أو صاحب بدعۃ وإن اغتاب الفاسق لیحذرہ الناس یثاب علیہ لأنہ من النھی عن المنکر۔ أقول والْإباحۃ لَا تنافی الوجوب فی بعض المواضع الآتیۃ۔ (قولہ ومتظاھر بقبیح وھو الذی لَا یستتر عنہ ولَا یؤثر عندہ إذا قیل عنہ انہ یفعل کذا اھـ ابن الشحنۃ قال فی تبیین المحارم فیجوز ذکرہ بما یجاھر بہ لَا غیرہ ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۴۰۹، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع)۔

