بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

غیبت‌کے‌کیا‌معنی‌ہیں؟‌نیز‌جن‌کی‌غیبت‌کی‌ہو،‌وہ‌معلوم‌نہ‌ہوں‌تو‌کیا‌کیا‌جائے؟

سوال:۔

میں نے اپنی زندگی کے پندرہ سالوں میں نجانے کتنے لوگوں کی غیبت کی ہوگی، اور غیبت کی معافی بھی اسی اِنسان سے مانگی جاتی ہے، لیکن مجھے تو ان لوگوں کی تعداد بھی نہیں معلوم جن کی میں نے غیبت کی ہے۔ اور بیشتر تو اس دُنیا ہی میں نہیں، مجھے ان غیبتوں کی معافی کس طرح مل سکتی ہے؟ اور اس کا کیا کفارہ ہے؟ نیز غیبت کی حد کیا ہے؟ یعنی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟

جواب:۔

غیبت کے معنی ہیں پیٹھ پیچھے کسی کی بُرائی کرنا، اور یہ حرام ہے۔(۱) جن کی بُرائی کی ہے، اگر وہ یاد ہوں تو ان سے معافی مانگی جائے، اور اگر یاد نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ سے دُعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کی مغفرت فرمادیں اور میں نے جو اُن کی غیبت کی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی معافی دِلوادے۔(۲)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قیل: یا رسول اللہ! ما الغیبۃ؟ قال: ذکرک أخاک بما یکرہ، قال: أرئیت إن کان فیہ ما أقول؟ قال: إن کان فیہ ما تقول فقد اغتبتہ وإن لم یکن فیہ ما تقول فقد بھتّہ۔ (ترمذی ج:۲ ص:۱۵، باب ما جاء فی الغیبۃ)۔
  2. (۲) عن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان من کفارۃ الغیبۃ أن تستغفر لمن اغتبتہ تقول: اللّٰھم اغفر لنا ولہ۔ رواہ البیھقی۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۵، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم، أیضًا: شامی ج:۶ ص:۴۱۰)۔ أیضًا: فإن عجز عن ذالک کلہ بأن کان صاحب الغیبۃ میتًا أو غائبًا مثلًا فلیستغفر اللہ تعالٰی والمرجو من فضلہ أن یرضی خصمائہ فإنہ جواد کریم۔ (إرشاد الساری إلٰی مناسک المُلّا علی القاریٔ ص:۳، طبع دار فکر، بیروت)۔