بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

شر‌سے‌بچانے‌کے‌لئے‌غیبت‌کرنا

سوال:۔

اگر کوئی اپنے کسی جاننے والے کو بتادے کہ فلاں دُکان دار بے اِیمان ہے، سودا کم تولتا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص اپنی عیاری سے لوگوں کو بے وقوف بناکر رقم اینٹھ لیتا ہے، بھولے بھالے لوگ اس کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں، اگر معلومات رکھنے والا بتادے کہ فلاں شخص سے ہوشیار رہنا، ورنہ رقم سے ہاتھ دھوبیٹھوگے۔ اگر کوئی مکان کرایہ پر لینے سے قبل معلومات کرے اور اسے بتادیا جائے کہ مالکِ مکان اچھا آدمی نہیں ہے، اس کی بیوی جھگڑالو ہے، یا کسی کا ذِکر آیا تو کہہ دیا کہ وہ بڑے بقراط ہیں، اپنے کو بہت قابل سمجھتے ہیں، یا کسی کو کسی محفل میں آتا دیکھ کر برابر والے کو کہنی ماری جو اِشارہ تھا آنے والے کی ہجو کا۔ اگر کسی کو گول مول طریقے سے بتایا جائے تو اسے تجسّس ہوگا، اور پوری بات معلوم کئے بغیر عمل نہیں کرے گا، اگر نہ بتایا جائے تو ایک مسلمان بھائی کا نقصان ہوگا، اگر یہ سب غیبت میں شمار ہے تو پھر اِنسان کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں رہتا ہے۔ آپ فرمائیں کہ مذکورہ بالا باتوں کے لئے کونسا طریقہ اِختیار کیا جائے؟ کیا مذکورہ بالا تمام باتوں کا شمار غیبت کے زُمرے میں آتا ہے؟

جواب:۔

ہے تو یہ بھی غیبت، کیونکہ غیبت کے معنی ہیں کسی کی پس پشت بُرائی کرنا، یا ایسی بات کہنا کہ اگر اس کے سامنے کہی جائے تو اسے بُری لگے۔(۱) اب اگر اس غیبت سے مقصود اس شخص کی تنقیص وتوہین نہیں، بلکہ کسی مسلمان کو اس کے شر سے بچانا مقصود ہے، تو یہ گناہ نہیں۔ کسی کے لئے ’’بقراط‘‘ کا فقرہ چست کرنا، یا کہنی مارکر اس کی ہجو کی طرف اِشارہ کرنا حرام غیبت کے زُمرے میں آئے گا،(۲) کیونکہ اس کا مدعا اس شخص کی تنقیص کے سوا کچھ نہیں۔ اور کسی شخص کی دھوکادہی، بے اِیمانی اور فریب کاری سے کسی ایسے شخص کو آگاہ کرنا جو اس کے دھوکے میں آسکتا ہے، یہ غیبت حرام نہیں ہوگی۔ کسی مظلوم کا ظالم کی شکایت ایسے شخص کے سامنے کرنا جو اس کے ظلم سے نجات دِلاسکتا ہے، یا اس کی مشکل کا کوئی حل نکال سکتا ہے، حرام غیبت نہیں۔(۳) اور کسی ایسے شخص کے سامنے شکایت کرنا جو اس ظلم کا کوئی تدارک نہیں کرسکتا، حرام غیبت کے زُمرے میں آئے گا۔ خلاصہ یہ کہ جہاں غیبت سے مقصود اس کے شر سے بچنا، یا دُوسرے کو بچانا ہو، وہ حرام غیبت نہیں، اور جہاں یہ مقصد نہ ہو، وہ حرام ہے، واللہ اعلم!

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قیل: یا رسول اللہ! ما الغیبۃ؟ قال: ذکرک أخاک بما یکرہ، قال: أرئیت إن کان فیہ ما أقول؟ قال: إن کان فیہ ما تقول فقد اغتبتہ وإن لم یکن فیہ ما تقول فقد بھتّہ۔ (ترمذی ج:۲ ص:۱۵، باب ما جاء فی الغیبۃ)۔
  2. (۲) وکما تکون الغیبۃ باللسان صریحًا تکون أیضًا بالفعل ۔۔۔ وبغمز العین والْإشارۃ بالید وکل ما یفھم منہ المقصود فھو داخل فی الغیبۃ وھو حرام۔ (الدر المختار ج:۶ ص:۴۰۹،۴۱۰، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع)۔
  3. (۳) وإذا کان الرجل یصوم ویصلی ویضر الناس بیدہ ولسانہ فذکرہ بما فیہ لیس بغیبۃ حتّٰی لو أخبر السلطان بذالک لیزجرہ لَا إثم علیہ۔ (الدر المختار ج:۶ ص:۴۰۸)۔