اخلاقیات
کسیکےشرسےلوگوںکوبچانےکےلئےغیبتکرنا
سوال:۔
ایک صاحب ہمارے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ: ’’فلاں صاحب جو آپ کے محلے میں رہتے ہیں، ان سے ہم اپنی بیٹی کا رشتہ کرنا چاہتے ہیں، برائے مہربانی آپ ہمیں ان صاحب کی عادتوں اور کردار وغیرہ اور دیگر تفصیلات کے متعلق بتائیں‘‘ کیا ان سائل کو تمام باتیں بتانا چاہئے یا نہیں؟ اور اگر بتانا چاہیں تو کیا وہ باتیں بھی بتادی جائیں جن کو کسی سے ذکر نہ کرنے کا ہم سے وعدہ لے لیا گیا ہو؟
جواب:۔
اس شخص کی غیبت کرنا مقصود نہ ہو بلکہ رشتہ کرنے والے کو نقصان سے بچانا مقصود ہو تو اس شخص کی حالت کا ذکر کردینا جائز ہے،(۱) اور اگر کسی سے ذکر نہ کرنے کا وعدہ کر رکھا ہو تو بہتر یہ ہے کہ خود نہ بتائے بلکہ کسی اور واقف کار کا حوالہ دے دے کہ اس سے دریافت کرلو۔
- (۱) فتباح غیبۃ مجھول ومتظاھر بقبیح ولمصاھرۃ ولسوء إعتقاد تحذیرًا منہ۔ (درمختار)۔ قولہ: ولمصاھرۃ: الأولٰی التعبیر بالمشورۃ أی فی نکاح وسفر وشرکۃ ومشاورۃ وإیداع أمانۃ ونحوھا فلہ أن یذکر ما یعرفہ علٰی قصد النصح۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۴۰۹، حظر والْإباحۃ، فصل فی البیع، طبع ایچ ایم سعید)۔

