بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

غیبت‌کی‌سزا

سوال:۔

کیا غیبت کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں، میں نے سنا ہے کہ جس آدمی کی غیبت کی جاتی ہے غیبت کرنے والا گناہگار ہوجاتا ہے، مگر جس کی غیبت کی جاتی ہے اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ کیا جس کی غیبت کی جاتی ہے واقعی اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں؟

جواب:۔

غیبت کرنے والے سے اس کی نیکیاں لے کر جس کی غیبت کی گئی ہو اس کو دِلائی جائیں گی، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں تو جس کی غیبت کی گئی اس کے گناہ غیبت کے بقدر اس پر ڈال دئیے جائیں گے۔(۱) تمام حقوق العباد کا یہی مسئلہ ہے، اِلَّا یہ کہ اللہ تعالیٰ صاحبِ حق کو اپنے پاس سے عطا فرماکر اس سے معاف کرادیں تو ان کا فضل ہے۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: رحم اللہ عبدًا کانت لأخیہ عندہ مظلمۃ فی عرض أو مال فجائہ فاستحلہ قبل أن یؤخذ ولیس ثَمّ دینار ولَا درھم فإن کانت لہ حسناتٌ اُخذ من حسناتہٖ وإن لم تکن لہ حسناتٌ حملوا علیہ من سیاتھم۔ (ترمذی ج:۲ ص:۱۶۷، أبواب صفۃ یوم القیامۃ، طبع قدیمی)۔