اخلاقیات
کسیکےبارےمیںشکوبدگمانیکرنا
سوال:۔
ایک حدیث ہے کہ کسی پر شک نہیں کرنا چاہئے، یعنی شک، بدگمانی اور تجسّس منع ہیں۔ دُوسری حدیثِ مبارک ہے کہ جو چیز تمہیں شک میں ڈال دے اسے چھوڑ دو۔ ان دونوں حدیثوں میں کیا فرق ہے عمل کے لحاظ سے؟ اور کیا مطلب ہے؟
جواب:۔
کسی کے بارے میں بدگمانی جائز نہیں،(۱) یہ تو پہلی حدیث کا مطلب ہے۔ اور دُوسری حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس کام کے بارے میں تردّد ہو کہ آیا یہ جائز ہے یا نہیں، تو اس کو نہ کرو۔(۲)
- (۱) عن أبی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: إیّاکم والظن! فإن الظن أکذب الحدیث۔ (ترمذی ج:۲ ص:۲۰، باب ما جاء فی سوء الظن، طبع کتب خانہ رشیدیہ، دھلی)۔
- (۲) وعن الحسن بن علی قال: حفظت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: دع ما یریبک إلٰی ما لَا یریبک، فإن الصدق طمانیۃ وإن الکذب ریبۃ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۲، باب الکسب وطلب الحلال، الفصل الثانی)۔ أیضًا: وفی حاشیۃ المشکٰوۃ: قولہ فإن صدق إلخ الصدق والکذب یستعملان فی الأقوال والأفعال وقالوا معناہ إذا وجدت نفسک ترتاب فی الشیء فاترکہ وانتقل إلٰی ما لَا ترتاب فیہ فإن نفس المؤمن تطمئن إلی الصدق وترتاب من الکذب فارتیابک فی الشیء ینبئی عن کونہ باطلًا أو مظنۃ للباطل فاحذرہ واطمینانک إلی الشیء یشعر بأنہ حق فاستمسک بہ فھٰذا ضابطۃ لمعرفۃ کون الفعل حسنا وقبیحًا وکون الشیء حلالًا وحرامًا۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۲، حاشیہ نمبر۴، باب الکسب وطلب الحلال)

