بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

اِلزام‌ثابت‌نہ‌کرسکنے‌والے‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

مجھ پر بھاری پنچایت میں جس میں پانچ سو سے زائد اَفراد شریک تھے، چار آدمیوں نے بہتان لگایا، جو کہ سراسر جھوٹا ہے۔ اب آپ سے گزارش ہے کہ جن افراد نے مجھ پر جھوٹا بہتان لگایا ہے، اگر وہ مجھ پر اِلزام ثابت نہ کرسکیں تو شریعت ان افراد کے لئے کیا فتویٰ دیتی ہے؟ کیونکہ کسی عزّت دار آدمی پر جھوٹا اِلزام یا بہتان لگانا کہاں تک دُرست ہے؟ شریعت میں اس کا کیا فتویٰ ہے؟

جواب:۔

جس شخص پر کوئی جھوٹا اِلزام لگایا گیا اور وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اس کا اِنتقام نہیں لے سکا، تو اس کا اِنتقام اللہ تعالیٰ لیں گے، اِلَّا یہ کہ آپ ان سب کو معاف فرمادیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب لوگوں کو معافی عطا فرمائیں۔(۱)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من کانت لہ مظلمۃ لأخیہ من عرضہ أو شیء فلیتحللہ منہ الیوم قبل أن لَا یکون دینار ولَا درھم إن کان لہ عمل صالح اُخذ منہ بقدر مظلمتہ وإن لم یکن لہ حسنات اُخذ من سیئات صاحبہ فحمل علیہ۔ رواہ البخاری۔ (مشکٰوۃ ص:۴۳۵، باب الظلم، الفصل الأوّل)۔