بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

وعدہ‌نبھانے‌کا‌عہد

سوال:۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد مبارک ہے جس کا ترجمہ میں نیچے بیان کر رہا ہوں۔ ترجمہ: ’’جس میں امانت نہیں، اس میں ایمان نہیں، جو کوئی پابندِ عہد نہیں، اس کا کوئی دِین نہیں۔‘‘

میرا سوال پابندیٔ عہد کے بارے میں ہے، زید نے اسکول میں اُستاد سے وعدہ کیا کہ میں کام کل کرکے دِکھادُوں گا، اُستاد نے اسے کل تک کی مہلت عنایت کردی۔ اب زید مدرسے سے باہر نکلا اور اس کا حادثہ ہوگیا، تو مندرجہ ذیل صورتوں میں سے کسی میں زید اُس فہرست میں تو شامل نہیں ہوجاتا، جس کے بارے میں فرمایا کہ: ’’اس کا کوئی دِین نہیں جو پابندِ عہد نہیں‘‘:

الف:۔ وہ بہت بُری طرح زخمی ہوجاتا ہے، اور کام کرنے کے قابل نہیں رہتا۔

ب:۔ یا زید اس حادثے کے نتیجے میں مرجاتا ہے۔

اسی سلسلے میں ایک اور سوال پوچھنا ہے، اللہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کے حقوق کے بارے میں بہت تاکید کی ہے، اور قرآن میں تو صاف صاف آیات نازل ہوئی ہیں۔ والدین کا حکم اس وقت تک ماننا فرض ہے جب تک کہ وہ خلافِ شریعت نہ ہو۔ اب دونوں حدیثوں کو ایک جگہ رکھا جائے تو ایک سوال پہلی والی صورت کے بارے میں پیدا ہوتا ہے، زید نے جو وعدہ اُستاد سے کیا تھا، یعنی کہ کام میں کل کرکے دِکھادُوں گا۔ زید گھر آیا تو والد نے، یا والدہ نے یا دونوں نے اس کو ایسا حکم دیا جو خلافِ شریعت بھی نہیں اور اگر زید والدین کا حکم مانتے ہوئے وہ کام کرتا ہے تو وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کرسکتا، ایسی صورت میں وہ وعدہ پورا کرکے والدین کے غصّے کا نشانہ بنے یا والدین کا حکم مان کر ان لوگوں میں شامل ہوجائے جن کا کوئی دِین نہیں؟ برائے مہربانی تفصیل سے مسئلے کا حل بتاکر شکریہ کا موقع عنایت کیجئے۔

جواب:۔

اگر کسی معقول عذر کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کیا جاسکے تو گناہ نہیں۔ والدین کے حکم کی تعمیل بھی عذر ہے،(۱) البتہ یہ مناسب ہے کہ والدین کو اُستاد سے کیا ہوا وعدہ بتادیا جائے، اور ان سے اس کے پورا کرنے کی اِجازت لے لی جائے، اگر وہ اس کا موقع نہ دیں تو معذور ہے، واللہ اعلم!

  1. (۱) قال السیّد العذر ما یتعذر علیہ المعنی علٰی موجب الشرع إلّا بتحمّل ضرر زائد۔ (قواعد الفقہ ص:۳۷۵)۔ أیضًا: عن زید بن أرقم عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا وعد الرجل أخاہ ومن نیتہ أن یفی لہ فلم یف ولم یجیء للمیعاد فلا إثم علیہ۔ رواہ أبوداوٗد والترمذی۔ وفی حاشیۃ المشکٰوۃ: وقیل الخلف فی الوعد من غیر مانع حرام وھو المراد ھنا وکان الوفاء بالوعد مأمورا بہ فی الشرائع السابقۃ أیضًا۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۶، باب الوعد، الفصل الأوّل)۔