اخلاقیات
ایفائےعہدیانقضِعہد؟
سوال:۔
’’الف‘‘ نے ’’ب‘‘ سے یہ کہہ کر قرض لیا کہ اگلے ماہ کی پہلی تاریخ کو دے دُوں گا، لیکن اتفاقاً اس پہلی تاریخ کو ہفتہ واری چھٹی تھی، لہٰذا دفتر تنخواہ بند ہونے کی وجہ سے پہلی کو ’’الف‘‘ وہ قرضہ ادا نہ کرسکا۔ آپ بتلائیں کہ اس کا وعدہ پورا ہوا یا نقضِ عہد کا مرتکب ہوا؟
جواب:۔
چونکہ فریقین کے ذہن میں یہ تھا کہ پہلی تاریخ کو تنخواہ ملنے پر قرضہ ادا ہوگا، اس لئے اس تاریخ کو دفتر بند ہونے کی وجہ سے اگر ادائیگی نہ ہوسکی تو اگلے دن کردے، یہ وعدہ خلافی کا مرتکب اور گنہگار نہ ہوگا، حدیث شریف میں ہے:
’’اِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ اَخَاہُ وَمِنْ نِیَّتِہٖ اَنْ یَّفِیَ لَہٗ، فَلَمْ یَفِ وَلَمْ یَجِئْ لِلْمِیْعَادِ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف ص:۴۱۶، بروایت ابوداؤد و ترمذی)
ترجمہ:۔ ’’جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ تھی کہ وہ اس وعدے کو پورا کرے گا، لیکن (کسی عذر کی وجہ سے) نہ کرسکا اور وعدے پر نہ آسکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘

