اخلاقیات
وعدہتحریریہویازبانیاُسکااِیفاواجبہے
سوال:۔
زبانی وعدے کی شریعتِ اسلامی میں کیا حیثیت ہے؟ جبکہ مجھے اتنا معلوم ہے کہ مسلمان کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ وعدہ پورا کرتا ہے۔ آیا صرف تحریری وعدہ ہی پورا کیا جاسکتا ہے اور زبانی وعدے کی کوئی حیثیت نہیں؟ کوئی آدمی کسی کو زبانی وعدے پر قرض دے اور پھر دیتے وقت قرض کا نام نہ لے تو وہ قرض ہوگا یا ہدیہ؟ جبکہ پہلے سے بات طے ہوئی تھی کہ رقم کی ضرورت پڑنے پر قرض دی جائے گی۔
جواب:۔
یہ اپنی نوعیت کا انوکھا سوال ہے! دُنیا کے تمام عقلاء جانتے ہیں کہ وعدہ خواہ تحریری ہو یا زبانی، دونوں صورتوں میں اس کا اِیفا واجب ہے،(۱) اور بغیر عذرِ صحیح کے وعدہ خلافی کرنا منافق کا کام ہے۔(۲)
اسی طرح قرض اور ہدیہ کے بارے میں جو سوال کیا گیا ہے، وہ بھی عجیب وغریب سوال ہے! اس لئے کہ نادان بچے بھی قرض اور ہدیہ کا فرق سمجھتے ہیں، جب زبانی وعدے پر قرض دیا گیا تو وہ ہدیہ کیسے ہوا؟ جو شخص قرض کے نام سے رقم لے کر یہ کہتا ہے کہ آپ نے تو مجھے ہدیہ دیا تھا، نہ صرف دِین واِیمان سے، بلکہ اخلاق وشرافت سے بھی عاری ہے۔(۳)
- (۱) ﵟ وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا ﵞ سورة الإسراء ٣٤۔ أیضًا: یطلب من المعاھد الّا یضیعہ ویفی بہ أوان صاحب العھد کان مسئولًا۔ (تفسیر النسفی ج:۲ ص:۲۵۶)۔
- (۲) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: آیۃ المنافق ثلاث: إذا حدّث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان۔ (مشکٰوۃ ص:۱۷ باب الکبائر وعلامات النفاق، الفصل الأوّل)۔
- (۳) عن أنس قال: قلما خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلّا قال: لَا إیمان لمن لَا أمانۃ لہ، ولَا دِین لمن لَا عھد لہ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۵، کتاب الْإیمان، الفصل الثانی)۔

