اخلاقیات
جھوٹاحلفیہبیانگناہِکبیرہہے
سوال:۔
شناختی کارڈ اور بہت سے اسکولوں کے داخلہ فارموں میں حلفیہ بیان درج ہوتا ہے، جس کو پُر کرکے دستخط کرنا پڑتا ہے، بعض اوقات اس میں جھوٹا بیان لکھ کر (حلفیہ بیان پر) دستخط کئے جاتے ہیں۔ مثلاً دُوسرا شناختی کارڈ حاصل کرنے کے لئے جھوٹا حلفیہ بیان دیا جاتا ہے کہ مجھ سے شناختی کارڈ گم ہوا ہے اور دُوسرا جاری فرمائیں۔ درحقیقت شناخی کارڈ گم نہیں ہوتا بلکہ پاس ہوتا ہے۔ اگر کسی نے ایسا کیا ہوا ہو، (کسی بھی حلفیہ بیان پر جھوٹے دستخط کئے ہوں) تو واقعی اس نے جھوٹی قسم کھائی؟ کیا یہ حلفیہ بیان قسم کے مترادف ہے؟
جواب:۔
جھوٹ بول کرکے دستخط کرنا گناہِ کبیرہ ہے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے۔(۱)
- (۱) عن سفیان بن أسد الحضرمی قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: کبرت خیانۃ أن تحدث أخاک حدیثًا ھو لک مصدق وأنت بہ کاذب۔ رواہ أبوداوٗد۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۳، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)۔

