بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

مذاق‌میں‌جھوٹ‌بولنا

سوال:۔

مذاق کیا ہے؟ اگر ہم کسی سے مذاق میں جھوٹ بول رہے ہیں تو کیا یہ ہمارا مذاق جھوٹ میں شامل ہوگا؟ لیکن ہماری نیت صرف مذاق کی ہے۔ قرآن واحادیث کی روشنی میں اس کا جواب دیں۔

جواب:۔

’’مذاق‘‘ کسی کی ہنسی اُڑانے کو کہتے ہیں، اور اگر اس میں جھوٹ بولا جائے تو کبیرہ گناہ جمع ہوجائیں گے،(۱) کیونکہ کسی مسلمان کی ہنسی اُڑانا بجائے خود کبیرہ گناہ ہے۔(۲)

  1. (۱) عن بھز بن حکیم عن أبیہ عن جدہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ویل لمن یحدث فیکذب لیضحک بہ القوم، ویل لہ! ویل لہ! رواہ أحمد والترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۳، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)۔
  2. (۲) الکبیرۃ الحادیۃ والخمسون بعد المائتین: السخریۃ والْإستھزاء بالمسلم۔ قال تعالٰی: ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا يَسۡخَرۡ قَوۡمٞ مِّن قَوۡمٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُونُواْ خَيۡرٗا مِّنۡهُمۡ ﵞ سورة الحجرات ١١ ۔۔۔ وقد قام الْإجماع علٰی تحریم ذالک۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر ج:۲ ص:۲۲)۔