بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

کیا‌مذاق‌میں‌جھوٹ‌بولنے‌والا‌بھی‌منافق‌میں‌شمار‌ہوگا؟

سوال:۔

منافق کی تین نشانیاں ہیں: ۱:۔وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔ ۲:۔بات کرے تو جھوٹ بولے۔ ۳:۔امانت میں خیانت کرے۔

اگر کوئی کبھی مذاق میں بھی جھوٹ بولے، مگر اس کے جھوٹ سے کسی کو نقصان نہ پہنچے، اور اگر کوئی بندہ کسی کے سامنے اس کی بُرائی نہ کرے، مگر پیچھے بُرائی کرے، تو کیا وہ بھی منافق ہوگا؟ وضاحت فرمادیں۔

جواب:۔

مذاق میں جھوٹ بولنا بھی جائز نہیں،(۱) یہ منافق کی علامت میں شمار ہوگا۔ اور جو شخص اس کی پس پشت بُرائی کرتا ہے، وہ غیبت کرنے والا شمار ہوگا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت ہے۔(۲)

  1. (۱) عن بھز بن حکیم عن أبیہ عن جدہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ویل لمن یحدّث فیکذب لیضحک بہ القوم، ویل لہ! ویل لہ! رواہ أحمد والترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۳، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)۔
  2. (۲) وعن أبی سعید وجابر قالَا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الغیبۃ أشد من الزنا! قالوا: یا رسول اللہ! وکیف الغیبۃ أشدّ من الزنا؟ قال: ان الرجل لیزنی فیتوب، فیتوب اللہ علیہ، وفی روایۃ: فیتوب فیغفر اللہ لہ، وإنّ صاحب الغیبۃ لَا یغفر لہ حتّٰی یغفرھا لہ صاحبہ۔ (مشکٰوۃ شریف ص:۴۱۵، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)۔