اخلاقیات
منافقکیتیننشانیاں
سوال:۔
میں یہاں ایک حدیثِ نبوی کا ترجمہ بحوالہ بخاری و مسلم درج کرنا چاہتا ہوں: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں، بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلافِ وعدہ کرے، کوئی امانت اس کے پاس رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے، چاہے وہ شخص روزہ رکھتا ہو، نماز پڑھتا ہو اور اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہو‘‘ اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں آپ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں جس شخص میں یہ تینوں خصوصیات بدرجۂ اَتم ہوں؟
جواب:۔
منافق دو قسم کے ہیں، ایک منافقِ اعتقادی جو ظاہر میں مسلمان ہو اور دِل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان ہی نہ رکھتا ہو۔(۱) دُوسرا منافقِ عملی، یہ وہ شخص ہے جو اللہ و رسول کو مانتا ہے اور دِینِ اسلام کا عقیدہ رکھتا ہے، لیکن کام منافقوں والے کرتا ہے، مثلاً: جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، امانت میں خیانت کرنا، اس حدیثِ پاک میں اس دُوسری قسم کے منافق کا ذکر ہے، جو اگرچہ مسلمان ہے، نماز روزہ کرتا ہے، مگر اس کا کردار منافقانہ ہے۔(۲) جس شخص کا آپ نے ذکر کیا ہے، اگر اس میں یہ سب باتیں پائی جاتی ہیں تو حدیثِ پاک کی وعید اس کو شامل ہے کہ اس کا کردار منافقوں والا ہے، مگر اس کو مطلقاً ’’منافق‘‘ کہنا جائز نہیں، جیسا کہ کوئی شخص کافروں والے عمل کرتا ہو تو اس کو مطلقاً ’’کافر‘‘ کہنا جائز نہیں۔(۳)
- (۱) المنافقون الذین کانوا فی زمن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فحدثوا بإیمانھم فکذبوا وأتمنوا علٰی دینھم فخانوا ووعدوا فی أمر الدین ونصرہ فأخلفوا وفجروا فی خصوماتھم ۔۔۔إلخ۔ (شرح المسلم للنووی ج:۱ ص:۵۶)۔
- (۲) ان معناہ ان ھٰذہ الخصال ومتخلق بأخلاقھم فإن النفاق ھو إظھار ما یبطن خلافہ وھٰذا المعنٰی موجود فی صاحب ھٰذہ الخصال ویکون نفاقہ فی حق من حدثہ ووعدہ وأتمنہ وخاصمہ وعاھدہ من الناس لَا انہ منافق فی الْإسلام فیظھرہ ویبطن الکفر ولم یرد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھٰذا انہ منافق نفاق الکفار المخلّدین فی الدرک الأسفل من النار۔ (شرح المسلم للنووی ج:۱ ص:۵۶، باب خصال منافق)۔ أیضًا: عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: آیۃ المنافق ثلاث: إذا حدث کذب وإذا وعد أخلف وإذا اؤتمن خان۔ وفی الحاشیۃ: قولہ آیۃ المنافق ۔۔۔ المراد بالنفاق النفاق العملی لَا الْإیمانی۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۰، حاشیہ نمبر۲، باب علامۃ المنافق)۔
- (۳) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أیما رجل قال لأخیہ کافر، فقد باء بھا أحدھما۔ متفق علیہ۔ وعن أبی ذر رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یرمی رجل رجلًا بالفسوق ولَا یرمیہ بالکفر إلّا ارتدت علیہ إن لم یکن صاحبہ کذالک۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۱، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)۔

