بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

بداَخلاق‌نمازی‌اور‌بااَخلاق‌بے‌نمازی‌میں‌سے‌کون‌بہتر‌ہے؟

سوال:۔

ایک شخص ہے نمازی اور بہت نیک اور پرہیزگار، مگر اس کے اخلاق اچھے نہیں، ہر ایک کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آتا ہے، اور ایک شخص بے نمازی اور پرہیزگار بھی نہیں ہے، مگر اس کے اخلاق بہت اچھے ہیں، ایسی صورت میں کس کا عمل اچھا ہے؟

جواب:۔

آپ کی یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ عبادات کی تو تأثیر یہ ہے کہ وہ انسان کو مہذّب بنادے، اس کا دِل نرم کردے، اس کے اخلاق کو اچھا بنادے، اس کے تکبر کو ختم کردے، کیونکہ نماز کے بارے میں آتا ہے کہ وہ بے حیائی اور فواحش سے روکتی ہے۔(۱) پھر جب انسان نماز میں تواضع سے سر جھکاتا ہے تو تکبر ختم ہوجاتا ہے، ہر وقت وہ نماز میں خدا تعالیٰ سے دُعا کرتا ہے کہ مجھے نیک لوگوں کے راستے پر چلا، اور نیک لوگوں کے اخلاق اچھے اور اعلیٰ ہوتے ہیں، تو معلوم ہوا کہ عبادت کا اثر ہی یہی ہے کہ اس کے اخلاق بھی اچھے ہوجائیں۔ اب اگر عبادت اس میں یہ تأثیر نہیں کرتی تو معلوم ہوا کہ اس کی عبادت میں کوئی نقص ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی عبادت کی اصلاح کرے۔(۲) لیکن اس کو نماز، روزہ اور دیگر نیک کاموں کا اَجر اپنی جگہ الگ ملے گا اور بداخلاقی کا گناہ اپنی جگہ الگ۔(۳) اسی طرح بااخلاق شخص جو کہ نیک اعمال نہیں کرتا اور فرائض میں کوتاہی کرتا ہے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو فطرتِ سلیمہ اور صحیح طبیعت عطا کی ہے، مگر وہ اپنی غفلت اور کوتاہی اور شیطان کے بہکانے میں آکر اپنے فرائض میں کوتاہی کر رہا ہے، تو اس کو ان فرائض میں کوتاہی کی سزا ضرور ملے گی۔(۴) ان دونوں اَشخاص کی آپس میں کوئی نسبت نہیں، دونوں ہی صحیح راستے پر نہیں، ایک نے ایک حصہ دِین کا چھوڑا دیا، اور دُوسرے نے دُوسرا دِین کا حصہ چھوڑ دیا، اس لئے دونوں ناقص ہیں۔

  1. (۱)ﵟ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنْهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ ﵞ سورة العنكبوت ٤٥۔
  2. (۲) المراد أن الصلاۃ تنھٰی عن الفحشاء والمنکر مطلقًا وعلٰی ھٰذا قال بعض المفسرین الصلاۃ ھی التی تکون مع الحضور وھی تنھی۔ (التفسیر الکبیر ج:۲۵ ص:۷۲)۔ أیضًا: قال أبوبکر یعنی القیام بموجبات الصلاۃ من الْإقبال علیھا بالقلب والجوارح وإنما قیل تنھی عن الفحشاء والمنکر لأنھا تشتمل علٰی أفعال وأذکار ولَا تخللھا غیرھا من اُمور الدنیا ولیس بشیء من الفروض بھٰذہ المنزلۃ فھی تنھی عن المنکر وتدعو إلی المعروف بمعنی ان ذالک مقتضاھا وموجبھا لمن قام حقھا۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۳۵۰)۔
  3. (۳) عن حارثۃ بن وھب قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یدخل الجنّۃ الجوّاظ الجعظریّ یقال الجعظری الفظ الغلیظ وفی نسخ المصابیح عن عکرمۃ بن وھب ولفظہ قال والجوّاظ الذی جمع ومتع والجعظری الغلیظ الفظ۔ (مشکٰوۃ ص:۴۳۱)۔ أیضًا: وعن جریر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من یحرم الرفق، یحرم الخیر۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۴۳۱، باب الرفق والحیاء وحسن الخلق)۔
  4. (۴) عن عبداللہ بن عمرو بن العاص عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ ذکر الصلٰوۃ یومًا فقال من حافظ علیھا کانت لہ نورا وبرھانا ونجاۃ یوم القیامۃ ومن لم یحافظ علیھا لم تکن لہ نورا ولَا برھانًا ولَا نجاۃ وکان یوم القیامۃ مع قارون وفرعون وھامان واُبیّ بن خلف۔ رواہ أحمد۔ (مشکٰوۃ ص:۵۸،۵۹، کتاب الصلاۃ، الفصل الثالث)۔