اخلاقیات
غصّےمیںگالیاںدیناشرعاًکیساہے؟
سوال:۔
میرے دادا جان جن کی عمر تقریباً ۶۰ سال ہے، ماشاء اللہ سے خاصے صحت مند ہیں اور ان کی سنت کے حساب سے داڑھی بھی ہے، لیکن وہ عادتاً گالیاں دیتے ہیں۔ غصہ پینے کی بجائے بہت غصہ کرتے ہیں، انڈین فلمیں دیکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں، کبھی تو پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتے ہیں، لیکن وہ بھی گھر میں، بعض اوقات تو جمعہ کی نماز بھی گھر پر پڑھتے ہیں، اور کبھی کبھی بالکل ہی نماز چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر ذرا سر میں درد ہو یا کسی دن کام کی زیادتی ہوتی ہے اور وہ تھک جاتے ہیں تو صرف یہ کہہ کر نماز چھوڑ دیتے ہیں کہ آج بہت تھک گیا ہوں۔
جواب:۔
غصہ تو ان کو بڑھاپے کی کمزوری کی وجہ سے آتا ہوگا، لیکن غصّے میں گالیاں بکنا تو بہت بُری بات ہے،(۱) اور پھر ایک معمر بزرگ کے منہ سے گالیاں تو اور بھی بُری بات ہے۔ نماز میں کوتاہی کرنا ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔(۲) بڑھاپے کے بعد تو قبر ہی باقی رہ گئی ہے، اگر آدمی کو بڑھاپے میں اپنی کوتاہیوں کی تلافی کا ہوش نہ آئے تو کب آئے گا؟ حدیث میں ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ برس کی عمر عطا کردی، اس کے سارے عذر ختم کردئیے:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یُنَادِی مُنَادٍ یَوْمَ الْقِیَامِ: اَیْنَ ابْنُ السِّتِّیْنَ؟ وَهُوَ الْعُمُرُ الَّذِی قَالَ اللہُ تَعَالٰی: ﵟ أَوَلَمۡ نُعَمِّرۡكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ ٱلنَّذِيرُۖ ﵞ‘‘(رواہ البیہقی فی شعب الْإیمان، مشکوٰۃ ص:۴۵۱)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: قیامت کے دن ایک منادی اعلان کرے گا کہ: ساٹھ سال کی عمر والے کہاں ہیں؟ یہی عمر ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سکتا، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچا تھا؟‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے ’’اصلی گھر‘‘ کی تیاری کی توفیق عطا فرمائیں۔
- (۱) وعن ابن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لیس المؤمن بالطعّان ولَا باللّعّان ولَا الفاحش ولَا البذی۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۴۱۳)۔ أیضًا: عن عبداللہ بن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۱، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)۔
- (۲) ﵟ فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ ٤ ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ ٥ ﵞسورة الماعون

