بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

جوان‌مرد‌اور‌عورت‌کا‌ایک‌بستر‌پر‌لیٹنا

سوال:۔

کیا عورتوں کے کمرے میں مرد اکٹھے سوسکتے ہیں، جبکہ مردوں کے علیحدہ کمرے موجود ہوں؟ ان گناہگار آنکھوں نے کئی بار عورتوں کے ساتھ مردوں کو رات بھر ایک بستر پر سوتے دیکھا ہے، اور ان کو منع کیا مگر بدقسمتی سے تلخ جواب ملا یہ کہتے ہوئے کہ: ’’انسان تو چاند تک پہنچ گیا ہے اور تم ابھی تک دقیانوسی خیالات بار بار دُہراتے ہو، موجودہ ترقی یافتہ دور میں یہ سب ٹھیک ہے۔ پچاس برس کی ماں اپنے پچّیس برس کے بیٹے کے ساتھ سوسکتی ہے اور اسی طرح پچّیس سال کا بھائی اپنی بیس برس کی بہن کے ساتھ سوسکتا ہے۔‘‘

جواب:۔

حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ: ’’جب بچے دس سال کے ہوجائیں تو ان کے بستر الگ کردو‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۸)(۱) پس جوان بہن بھائیوں کا ایک بستر پر سونا کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ انسان کے چاند پر پہنچ جانے کے اگر یہ معنی ہیں کہ اس ترقی کے بعد انسان، انسان نہیں رہا، جانور بن گیا ہے اور اب اسے انسانی اقدار اور قوانینِ فطرت کی پابندی کی ضرورت نہیں، تو ہم اس ترقی کے مفہوم سے ناآشنا ہیں۔ ہمارے خیال میں انسان چاند چھوڑ کر مریخ پر جاپہنچے، اس پر اِنسانیت کے حدود و قیود کی رعایت لازم ہے، اور اسلام انسانیت کے فطری حدود و قیود ہی کا نام ہے۔ جو لوگ اسلام کی مقدس تعلیمات کو ’’دقیانوسی باتیں‘‘ کہہ کر اپنی آزاد خیالی اور ترقی پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ دراصل یہ چاہتے ہیں کہ انسان اور حیوان کا امتیاز مٹ جانا چاہئے، ایسے لوگوں کو مسلمان کہنا ہی غلط ہے۔

  1. (۱) عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہٖ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: مروا اولَادکم بالصلٰوۃ وھم أبناء سبع سنین، واضربوھم علیھا وھم أبناء عشر سنین، وفرقوا بینھم فی المضاجع۔ رواہ أبوداوٗد۔ (مشکٰوۃ شریف ص:۵۸)۔