اخلاقیات
نصیحتکرنےکےآداب
سوال:۔
اگر میرے ساتھ کام کرنے والا یا کوئی رشتہ دار کسی طریقے یعنی تبلیغ یا نرمی سے سمجھانے پر بھی نماز پڑھنے یا غلط عمل کے ترک کرنے پر آمادہ نہ ہو تو اس کے ساتھ دِینِ اسلام کی رُو سے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے؟
جواب:۔
اپنے مسلمان بھائیوں کو نیکی کرنے اور بُرائی چھوڑنے کی ترغیب دینا تو فرض ہے،(۱) مگر اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ بات بہت نرمی اور خوش اخلاقی سے سمجھائی جائے۔ طعن و تشنیع کا لہجہ اختیار نہ کیا جائے۔ اور تبلیغ کرتے وقت بھی اس کو اپنے سے افضل سمجھا جائے۔ اگر آپ نے پیار و محبت سے سمجھایا اور اس کے باوجود بھی وہ نہیں مانا تو آپ نے اپنا فرض ادا کرلیا، اب زیادہ اس کے پیچھے نہ پڑیں،(۲) بلکہ اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے رہیں کہ اسے راہِ راست کی توفیق عطا فرمائے اور کسی مناسب موقع پر پھر نصیحت کریں۔ بہرحال یہ خیال رہنا چاہئے کہ ہمیں بیماری سے نفرت ہے، بیمار سے نہیں۔ جو مسلمان بے عمل ہو اسے حقیر نہ سمجھا جائے، بلکہ اخلاق و محبت سے اس کی کوتاہی دُور کرنے کی پوری کوشش کی جائے، اس کے لئے تدابیر سوچی جائیں۔(۳)
- (۱) ﵟ وَلۡتَكُن مِّنكُمۡ أُمَّةٞ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلۡخَيۡرِ وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنْهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ ﵞ سورة آل عمران ١٠٤أیضًا: ﵟ كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنْهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ ﵞ سورة آل عمران ١١٠۔ أیضًا: عن جریر بن عبداللہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما من رجل یکون فی قوم یعمل فیھم بالمعاصی یقدرون علٰی ان یغیروا علیہ ولَا یغیرون إلّا أصابھم اللہ منہ بعقاب قبل أن یموتوا۔ (مشکٰوۃ ص:۴۳۷، باب الأمر بالمعروف)۔
- (۲) ﵟ ٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِۖ ﵞ یعنی بالقرآن الذی ھو محکم المقالَات لَا یتطرق إلیہ الطعن والمعارضۃ وھو الدلیل الموضح للحق المزیح للشبھات وھو الموعظۃ الحسنۃ ھی القول اللین الرقیق من غیر غلظۃ ولَا تعسف۔ ﵟ وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ ﵞسورة النحل ١٢٥۔ (تفسیر مظھری ج:۵ ص:۳۹۰)۔
- (۳) عن معاذ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من عیّر أخاہ بذنب لم یمت حتّٰی یعملہ یعنی من ذنب قد تاب منہ۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۴)۔ أیضًا: عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یکون المؤمن لعّانًا، وفی روایۃ: لَا ینبغی للمؤمن أن یکون لعّانًا۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۳، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)۔

