بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

طالبات‌کا‌بغیر‌محرَم‌کے‌تفریحی‌سفر‌جائز‌نہیں

سوال:۔

آپ کے صفحہ ’’اِقرأ‘‘ کے توسط سے یہ مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ ہم یونیورسٹی کے ایک شعبے کی طالبات اور طلبہ اپنے ٹیچرز کے ساتھ پندرہ روز کے لئے کراچی سے شمالی علاقہ جات کی سیر وتفریح کے لئے جارہے ہیں۔ ہمارے والدین کی طرف سے اِجازت ہے، مگر بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس طرح غیرمحرَم لڑکوں اور اساتذہ کے ساتھ تمہارا سفر کرنا حرام ہے، اور گناہ ہے۔ جبکہ سربراہِ شعبہ بھی ایک عالم ہیں، اور براہِ کرم مکمل تفصیلات کے ساتھ مسئلہ سمجھادیں۔ چونکہ ہمارا جون کے آخر میں یا جولائی کے شروع میں جانے کا پروگرام ہے، اس لئے جواب اس سے پہلے ہی اخبار میں آجائے تو ہم کوئی دُرست فیصلہ کرسکیں۔

جواب:۔

جوان لڑکیوں کا محرَم کے بغیر جانا جائز نہیں، حدیث شریف میں ہے کہ: ’’حلال نہیں کسی عورت کے لئے جو اِیمان رکھتی ہو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دِن پر کہ وہ تین دِن (کی پیدل مسافت) کا سفر کرے، مگر اس حالت میں کہ اس کے ساتھ محرَم ہو۔‘‘(۱) اس لئے جو لڑکیاں مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر اِیمان رکھتی ہیں، ان کو چاہئے کہ اس تفریحی سفر میں جانے سے اِنکار کردیں، واللہ اعلم!

  1. (۱) عن أبی سعید قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یحل لِامرأۃ تؤمن باللہ والیوم الآخر أن تسافر فوق ثلاثۃ أیام فصاعدًا إلّا ومعھا أبوھا أو أخوھا أو زوجھا أو إبنھا أو ذو محرم منھا۔ (سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۲۴۲)۔