پردہ
مسلمانعورتوںکےحقوقاورآزادیکیتحریک
سوال:۔
جناب مولانا صاحب! یہ بات یقینا آپ کے بھی علم میں ہوگی کہ چند روز پیشتر خواتین کی بعض تنظیموں نے ڈاکٹر اسرار احمد کے پردے سے متعلق خیالات پر سخت برہمی کا اِظہار کرتے ہوئے ٹی وی اسٹیشن پر مظاہرہ کیا۔ جنابِ عالی! مجھے اس سے بحث نہیں کہ ڈاکٹر اسرار احمد کی رائے دُرست ہے یا خواتین مظاہرہ کرنے میں حق بجانب ہیں، بلکہ یہاں صرف اتنا عرض کرنا مقصود ہے کہ جب غیرمسلم ہماری مسلمان عورت کو پردے کے خلاف اس طرح مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کی دِینِ اسلام اور اس کے پیروکاروں کے بارے میں کیا رائے ہوگی؟ اور ہم ان کے سامنے کس منہ سے یہ کہہ سکیں گے کہ ہمارا مذہب آفاقی ہے اور اس میں اتنی لچک موجود ہے کہ وہ بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ ساتھ بھی قابلِ عمل ہے۔
جنابِ عالی! اس موقع پر آپ سے گزارش ہے کہ آپ اسلام میں پردے سے متعلق جو اَحکام ہیں، انہیں شائع فرماکر اپنا دِینی فریضہ اَدا کریں۔ جواب کا اِنتظار رہے گا۔
جواب:۔
ان معزّز خواتین کے مظاہرے کی تفصیل اخبار میں پڑھی ہے، ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ’’اسلام نے مسلم خاتون کو جو حقوق عطا کئے ہیں، وہ انہیں دِلائے جائیں۔‘‘ یہ مطالبہ تو ایسا معقول اور منصفانہ ہے کہ کسی مسلمان کو اس سے اِنحراف کی گنجائش ہی نہیں۔ لیکن ان لائقِ صد اِحترام بیگمات نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ وہ کیا کیا حقوق ہیں جو اِسلام نے ان کو عطا کئے تھے، مگر ان کے ظالم شوہروں نے ان سے چھین رکھے ہیں؟ اگر وہ ان حقوق کی وضاحت فرمادیں تو مجھے یقین ہے کہ ہر وہ شوہر جو خدا ورسول پر اِیمان رکھتا ہے، اس کی دِلی ہمدردیاں ان مظلوم اور ستم رسیدہ خواتین کے ساتھ ہوں گی۔ وہ اخباری بیانات اور مضامین بھی نظر سے گزرے ہیں جو ان مظلوم بیگمات کی حمایت میں لکھے گئے ہیں، قریب قریب ہر تحریر میں بس یہی ایک بات دُہرائی گئی ہے کہ واقعی خواتین بہت مظلوم ہیں، اور ان کو ان کے ’’اسلامی حقوق‘‘ ضرور دئیے جانے چاہئیں۔ مگر یہ وضاحت ان میں بھی نہیں ملی کہ مطالبہ کن کن ’’اسلامی حقوق‘‘ کا ہے؟
جہاں تک راقم الحروف کی ناقص معلومات کا تعلق ہے، اسلام نے ’’مسلم خواتین‘‘ کے حسبِ ذیل حقوق متعین کئے ہیں:
۱:۔ ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے انہیں مردوں کی نظر میں عظمت وتقدس اور محبت وشفقت کا وہ مقام عطا فرمایا ہے، جس کا تصوّر بھی کسی مرد کے حق میں نہیں کیا جاسکتا۔ ماں کی خدمت وتعظیم پر، بہن کے اِحترام واِکرام پر، بیوی سے شفقت ومحبت اور رحمت واُلفت پر، اور بیٹی کی شفیقانہ پروَرِش پر، خدا ورسول کے جو وعدے ہیں، وہ اسلامیات کے کسی طالبِ علم سے پوشیدہ نہیں۔
۲:۔ عورت کا نان ونفقہ اور رہائش کے لئے حسبِ اِستطاعت مکان مرد کے ذمے ڈالا گیا ہے، گویا کسبِ معاش کے لئے دَر دَر کی ٹھوکریں کھانے کو اِسلام نے نسوانیت کی توہین قرار دِیا ہے، وہ اقلیم خانہ ودِل کی تاجدار ہے، اس سے روزی کموانا ننگِ انسانیت ہے، ہاں! کسی مظلومہ کے سر پر اس کا کوئی نگہبان ہی نہ ہو تو اس کا کسبِ معاش کے لئے تگ ودو کرنا ایک مجبوری ہے۔ لیکن اس صورت میں اس کے معاش کی ذمہ داری معاشرے اور حکومت پر ڈالی گئی ہے، اور اِسلامی حکومت کا فرض قرار دِیا گیا ہے کہ ایسی پسماندہ خواتین کے وظائف مقرّر کرے۔
۳:۔ ایک اہم ترین ذمہ داری مردوں کے ذمے ڈالی گئی ہے کہ وہ مسلم خاتون کی دِینی تعلیم وتربیت کا بندوبست کرے، انہیں ایسے تمام اعمال واخلاق سے باز رکھیں جو آدمی کو دوزخ کا اِیندھن بنادیتے ہیں، قرآن کریم میں ہے:
ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ وَأَهۡلِيكُمۡ نَارٗا وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلۡحِجَارَةُ ﵞ التحريم ٦
ترجمہ:۔ ’’اے ایمان والو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے، جس کا اِیندھن اِنسان اور پتھر ہیں۔‘‘
حضرت علی کرّم اللہ وجہہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’یعنی علمِ دِین خود سیکھو اور اپنے اہل وعیال کو سکھاؤ۔‘‘(۱)
یہ تین اُصول جو میں نے ذِکر کئے ہیں، ان کے ذیل میں سیکڑوں جزئیات آجاتی ہیں، جن کی تشریح کے لئے ایک دفتر درکار ہے۔ اگر کوئی مرد، خواتین کے یہ اِسلامی حقوق ادا نہیں کرتا تو وہ بڑا ہی ظالم اور سنگدل ہے، ایسے شخص کے خلاف میں ان بیگمات سے بڑھ کر اِحتجاج کرتا ہوں۔ لیکن ان معزّز بیگمات کو اس پر غور کرنا چاہئے کہ:
۱:۔ کیا یہ بھی ان کے ’’اسلامی حقوق‘‘ میں داخل ہے کہ مسلمان عورت سر برہنہ، بصد آرائش وزیبائش، بازاروں، گلیوں، دفتروں، کلبوں اور تعلیم گاہوں میں اجنبی مردوں کو حسنِ آوارہ کے نظارے دِکھاتی پھرا کرے۔؟
۲:۔ کیا یہ بھی ان کے ’’اسلامی حقوق‘‘ میں داخل ہے کہ سینماؤں، تھیٹروں، ڈراموں اور رقص وسرود کی محفلوں میں اداکاری کے جوہر دِکھاکر گندے دِل ودِماغ کی تفریح کا سامان مہیا کرے۔؟
۳:۔ کیا یہ بھی ان کے ’’اسلامی حقوق‘‘ میں داخل ہے کہ ان کی نسوانیت کو ماڈل گرل کی حیثیت سے فروغِ تجارت کی آلۂ کار بنایا جائے۔؟
۴:۔ کیا یہ بھی ان کے ’’اسلامی حقوق‘‘ میں داخل ہے کہ تعلیم گاہوں، کارخانوں اور دفتروں میں جوان لڑکوں اور لڑکیوں کو برابر بٹھاکر انہیں رابطۂ اُلفت اُستوار کرنے کی تربیت دی جائے۔؟
۵:۔ کیا یہ بھی ان کے ’’اسلامی حقوق‘‘ میں داخل ہے کہ عورت کو اس کی تمام تر نازک اندازی اور نسوانی عوارض کے باوجود اس پر مردانہ کاموں کا بوجھ ڈال دیا جائے۔؟
آج ہمارے معاشرے میں یہ مظلوم عورت جو کچھ کر رہی ہے، یا سحرِ سامری کے زور سے اس سے کرایا جارہا ہے، ان میں سے کونسی چیز ہے جسے ’’اسلامی حقوق‘‘ کا نام دِیا جائے؟ یہ معزّز بیگمات کیوں اِحتجاج نہیں کرتیں کہ سینماؤں وغیرہ میں نسوانیت کی مٹی کیوں پلید کی جارہی ہے؟ وہ کیوں اِحتجاج نہیں کرتیں کہ عورت اور اس کی تصویر کو منڈی کا بکاؤ مال کیوں بنایا جارہا ہے؟
انسانی گراوَٹ کا یہ تماشا بھی کتنا عبرت انگیز ہے کہ جس عورت کو ماں، بہن، رفیقۂ حیات اور بیٹی کی حیثیت دے کر اِسلام نے اس کی عظمت وتقدس کا مقام ہفت اختر سے بلند کیا تھا، سحرِ سامری نے اسے ’’خدمات فروشی‘‘ کی پستیوں میں دھکیل دیا ہے، جس سے کبھی چاند تارے تک شرمایا کرتے تھے، اس کی شرم وحیا آج بازار میں ٹکے سیر بک رہی ہے۔ ساحرِ مغرب نے ’’آزادیٔ نسواں‘‘ اور ’’حقوقِ نسواں‘‘ کا منتر پڑھا، خاتونِ مغرب نے اس افسوں سے مسحور ہوکر ’’گھر کی جنت‘‘ سے باہر قدم رکھا، اور مردوں کی تفریح کا کھلونا بن کر رہ گئی۔ اس کی دیکھا دیکھی خاتونِ مشرق نے بھی پردۂ عصمت سے باہر نکل آنے کو معیارِ کمال سمجھ لیا، اکبر مرحوم کے الفاظ میں انسانیت اس المیے کا جتنا ماتم کرے کم ہے:
بے پردہ نظر آئیں کل جو چند بیبیاں
اکبرؔ زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑگیا
پوچھا جو اُن سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا؟
کہنے لگیں: عقل پہ مردوں کی پڑگیا!
- (۱) روی عن علی فی قولہ: قوا أنفسکم وأھلیکم، الخیر وقال الحسن تعلمھم وتأمرھم وتنھاھم ۔۔۔إلخ۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۴۶۶، طبع سھیل اکیڈمی)۔

