پردہ
نامحرَممرداورعورتکاایکدُوسرےکوتحفہدینا
سوال:۔
کیا نامحرَم مرد یا عورت ایک دُوسرے کو قرآن شریف دے سکتے ہیں؟ اس کا پاس رکھنا اور پڑھنا جائز ہے؟ اور اگر ناجائز ہے تو اس کا کیا کرنا چاہئے؟ جبکہ ایسی صورت میں بدنامی کا اندیشہ ہو۔ میں تین چار مرتبہ اس قرآن پاک کو ختم کرچکی ہوں، اس کا ثواب ملے گا یا نہیں؟
جواب:۔
نامحرَم سے بات چیت کرنا، یا تحفہ دینا، اگر فتنے کا موجب ہو تو جائز نہیں۔(۱) تاہم جو قرآن مجید دیا گیا ہے اس کا پڑھنا جائز ہے۔
- (۱) ﵟ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِٱلۡقَولِ فَيَطۡمَعَ ٱلَّذِي فِي قَلۡبِهِۦ مَرَضٞ ﵞ سورة الأحزاب ٣٢۔ قیل فیہ ان لَا تلین القول للرجال علٰی وجہ یوجب الطمع فیھن من أھل الریبۃ وفیہ الدلَالۃ علٰی أن ذالک حکم سائر النساء فی نھیھن عن إلَانۃ القول للرجال علٰی وجہ یوجب الطمع فیھن ۔۔۔إلخ۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۳۵۹)۔

