بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

عورتوں‌کا‌خوشبو‌لگاکر‌مزاروں‌پر‌حاضر‌ہونا

سوال:۔

’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ جنگ کے ایک شمارے میں آپ نے تحریر فرمایا تھا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قبرستان جانے سے منع فرمایا ہے، جبکہ خواتین کی بڑی تعداد نے عام دنوں بالخصوص ماہِ شعبان میں بے پردہ، مردوں کے ہجوم سے گزرتے ہوئے قبرستان جانا معمول بنا رکھا ہے۔ ’’جنگ‘‘ ہی کے ایک شمارے میں مولانا احمد رضاخان صاحب بریلوی کا مندرجہ ذیل فتویٰ شائع ہوا تھا، جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے: ’’عورتوں کا قبروں پر جانا جائز نہیں، جب کوئی عورت گھر سے قبروں کی طرف چلنے کا اِرادہ کرتی ہے، اللہ اور اس کے فرشتوں کی لعنت میں ہوتی ہے، جب گھر سے باہر نکلتی ہے، سب طرف سے شیطان اُسے گھیر لیتے ہیں، جب قبر تک پہنچتی ہے، میّت کی رُوح اس پر لعنت کرتی ہے، جب واپس آتی ہے اللہ کی لعنت میں ہوتی ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد چہارم) نیز آج کل خواتین بالخصوص نوجوان لڑکیاں گھر سے باہر نکلتے ہوئے پرفیوم (خوشبو) لگاکر نکلتی ہیں، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب:۔

عورتوں کے قبرستان جانے کے بارے میں آپ نے مولانا احمد رضاخان کا فتویٰ نقل کردیا ہے، جَزَاکُمُ اللہُ اَحْسَنَ الْجَزَآءِ!

اور عورت کا خوشبو لگاکر نکلنا بہت ہی ناشائستہ حرکت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ عورتوں کی خوشبو ایسی ہونی چاہئے کہ اس میں رنگ ہو، خوشبو نہ ہو۔(۱) اس لئے جو عورتیں خوشبو لگاکر نکلتی ہیں وہ سخت گناہ کا اِرتکاب کرتی ہیں۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طیب الرجال ما ظھر ریحہ وخفی لونہ، وطیب النساء ما ظھر لونہ وخفی ریحہ۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۳۸۱، باب الترجل، الفصل الثانی)۔