پردہ
مخلوطتقریباتمیںشرکت
سوال:۔
ہمارے خاندان کے تمام افراد یعنی چچا، تایا وغیرہ اور دیگر اَفراد خاصے حیثیت والے ہیں، اور اس دُنیا کے دستور کے مطابق جوں جوں پیسے کی فراوانی ہوتی جارہی ہے، یہ لوگ دِین سے دُور ہوتے جارہے ہیں، حتیٰ کہ ’’مکس گیدرنگ‘‘ کا رِواج بھی اپنالیا ہے، یعنی شادیوں وغیرہ میں مردوں اور عورتوں کی ’’مخلوط تقریب‘‘ جس کی وجہ سے ہمیں بہت پریشانی لاحق ہوگئی ہے، کیونکہ الحمدللہ! ہم سب پردہ کرتے ہیں (اور اللہ اس پردے کو قائم رکھے، آمین)، لیکن ان تقریبات میں شریک ہونے سے ہمارا پردہ قائم نہیں رہ پاتا، خاص کر مہندی وغیرہ کی تقریب میں جب لڑکے لڑکیاں اور مرد اور عورتیں بالکل آمنے سامنے ہوجاتے ہیں، ایسے میں پردہ برقرار رکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ جبکہ اگر ان تقریبات میں شرکت ہی نہ کی جائے تو اللہ تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے، کیونکہ میں نے سنا ہے کہ ’’رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘
محترم مولانا صاحب! آپ اس بارے میں ہمیں مشورہ دیجئے کہ اگر ہم کسی طرح صرف عورتیں ان تقریبات میں شریک نہ ہوں تو کیا ہم پر گناہ ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔
ایسی تقریبات جن میں گناہ کا کام ہوتا ہو، ان میں شرکت کرنا حرام ہے۔ اور یہ قطع تعلق میں داخل نہیں۔ اس لئے ایسی تقریبات میں ہرگز شرکت نہ کی جائے، خواہ سارا جہان ناراض ہوجائے!(۱)
- (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ رواہ فی شرح السُّنَّۃ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۲۱)۔

