بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

میڈیکل‌کی‌تعلیم‌اور‌پردہ

سوال:۔

میری چھوٹی بہن میڈیکل کے سالِ اوّل میں زیرِ تعلیم ہے، یہ والدین کی خواہش تھی۔ بہن کو جلد ہی حقیقت معلوم ہوگئی کہ شرعاً خواتین کے لئے حجاب ضروری ہے۔ وہ کالج میں چہرے پر نقاب لگاکر رکھتی ہے، مگر محض چہرے کے نقاب پر مطمئن نہیں۔ آج کل کالج کے ماحول کے حوالے سے یہ بات ضروری سمجھی جاتی ہے کہ اچھے اور عمدہ کپڑے پہن کر گھر سے باہر نکلا جائے، مذہب میں عورت کا تو بلاضرورت گھر سے نکلنا ہی ناجائز ہے، تو کالج کون سی شرعی ضرورت ہے؟ کالج کا ماحول آزادانہ ہے، ایسے ماحول میں دِین محفوظ رکھنا اور اس پر عمل مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ بڑی خوشی اور فخر سے مردوں سے زیادہ محنت کرتی ہیں، اتنی تکلیف کے بعد اگر ان سے کوئی پوچھے: کیا اللہ کو راضی کرلیا؟ مرنے کے لئے کچھ جمع کیا ہے؟ تعلیمی مصروفیت کی وجہ سے نمازیں اور پریکٹیکل کی وجہ سے روزے چھوٹ گئے۔ افسوس! یہ سب محض دُنیا کے لئے کیا جاتا ہے اور آخرت کے لئے کچھ نہیں۔ ہمارے ساتھ بھی کچھ اسی طرح کا مسئلہ ہے، والدین نے ہمیں اعلیٰ تعلیم اس لئے دِلوائی تاکہ ہم اپنا بوجھ خود اُٹھاسکیں۔ چھوٹی بہن میڈیکل چھوڑنا چاہتی ہے، مگر والدین کے خوف سے زبان نہیں کھولتی، اگر وہ میڈیکل کی تعلیم چھوڑتی ہے تو والدین ناراض ہوتے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ بہن میڈیکل کالج چھوڑ کر کراچی میں کسی مدرسے میں داخلہ لے لے، کیا یہ صحیح ہے؟

جواب:۔

میڈیکل کی تعلیم میں اگر پردے کی پابندی ممکن نہیں، اور غیرشرعی اُمور کا اِرتکاب کرنا پڑتا ہے، تو ایسی صورت میں مخلوق کی ناراضی کے بجائے خدا تعالیٰ کی ناراضی کا خیال کرنا چاہئے، اور اس تعلیم کو چھوڑ کر دِینی تعلیم حاصل کرنی چاہئے۔(۱)

  1. (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ رواہ فی شرح السُّنَّۃ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۲۱)۔