بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

کالج‌کی‌لڑکیوں‌کو‌سیر‌وتفریح‌کے‌لئے‌دُوسرے‌شہر‌جانا

سوال:۔

میں گرلز کالج میں پڑھتی ہوں، اور کالج کی طرف سے لڑکیوں کے گروپ سیر وتفریح کے لئے دُوسرے شہروں میں جاتے ہیں۔ اگرچہ کچھ لڑکیاں پردے کا خیال بھی رکھتی ہیں۔ لڑکیوں کے گروپ میں صرف لڑکیاں ہی ہوتی ہیں اور خواتین ٹیچرز ان کے ساتھ ہوتی ہیں، تو کیا لڑکیوں کا اس طرح سیر وتفریح کے لئے جانا جائز ہے یا نہیں؟ آپ پوری تفصیل کے ساتھ اور واضح جواب دیں۔ ہوسکتا ہے میرا یہ سوال آپ کو عجیب لگے، لیکن اس سوال کا جواب ضرور اور جلدی دیں، کیونکہ کچھ عرصے بعد ہمارے کالج میں لڑکیوں کا گروپ جانے والا ہے، میں بھی ان کی کلاس فیلو ہوں اور پہلے آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ جانا چاہئے یا نہیں؟

جواب:۔

قرآنِ کریم میں عورتوں کو گھر میں بیٹھنے کا حکم فرمایا۔(۱) سیر وتفریح کے لئے گھومنا پھرنا نسوانی فطرت کے خلاف ہے،(۲) اور بغیر محرَم کے سفر کی تو شریعت نے اِجازت ہی نہیں دی۔(۳)

  1. (۱) ﵟ وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰ ﵞ سورة الأحزاب ٣٣
  2. (۲) عن ابن مسعود عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: المرأۃ عورۃ، فإذا خرجت إستشرفھا الشیطان۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۲۶۹، باب النظر إلی المخطوبۃ وبیان العورات، الفصل الثانی)۔
  3. (۳) عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یخلونّ رجل بإمرأۃ ولَا تسافرنّ إمرأۃ إلّا ومعھا محرم ۔۔۔إلخ۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۲۱، کتاب المناسک، الفصل الأوّل)۔