پردہ
بےپردگیسےمعاشرتیپیچیدگیاںپیداہورہیہیںنہکہپردےسے
سوال:۔
محترم! فیڈریشن آف پروفیشنل ویمن ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیڈریشن کی صدر ڈاکٹر سلیمہ احمد صاحب نے فرمایا: ’’خواتین کو پردے میں بٹھانے سے معاشرتی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں‘‘ کیا ان محترمہ کا بیان دُرست ہے؟
جواب:۔
ڈاکٹر صاحبہ کو جس پردے میں پیچیدگیاں نظر آرہی ہیں اس کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں دیا ہے، چنانچہ سورۂ اَحزاب آیت:۳۳ میں خواتینِ اسلام کو حکم فرماتے ہیں:
ﵟ وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰۖ ﵞ الأحزاب ٣٣
ترجمہ:۔ ’’اور قرار پکڑو اپنے گھروں میں، اور دِکھلاتی نہ پھرو جیسا کہ دِکھانا دستور تھا پہلے جہالت کے وقت میں۔‘‘ (ترجمہ شیخ الہندؒ)
شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی ؒاس آیت شریفہ کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’اسلام سے پہلے زمانۂ جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرتی اور اپنے بدن اور لباس کی زیبائش کا علانیہ مظاہرہ کرتی تھیں۔ اس بداخلاقی اور بے حیائی کی رَوِش کو مقدس اسلام کب برداشت کرسکتا ہے؟ اس نے عورتوں کو حکم دیا کہ گھروں میں ٹھہریں اور زمانۂ جاہلیت کی طرح باہر نکل کر حسن و جمال کی نمائش کرتی نہ پھریں۔‘‘
یہ تو چاردیواری میں بیٹھنے کا حکم ہوا، اور اگر کبھی باَمرِ مجبوری خواتین کو گھر سے باہر قدم رکھنا پڑے تو وہ کس انداز سے نکلیں؟ اس کے لئے درج ذیل ہدایت فرمائی گئی، سورۂ اَحزاب آیت:۵۹ میں ارشاد ہے:
ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّۚ ﵞ الأحزاب ٥٩
ترجمہ:۔ ’’اے نبی! کہہ دے اپنی عورتوں کو اور اپنی بیٹیوں کو اور مسلمانوں کی عورتوں کو، نیچے لٹکالیں اپنے اُوپر تھوڑی سی اپنی چادریں۔‘‘ (ترجمہ شیخ الہندؒ)
شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒاس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’یعنی بدن ڈھانپنے کے ساتھ چادر کا کچھ حصہ سر سے نیچے چہرے پر بھی لٹکالیویں۔ روایات میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر مسلمان عورتیں بدن اور چہرہ چھپاکر اس طرح نکلتی تھیں کہ صرف ایک آنکھ دیکھنے کے لئے کھلی رہتی تھی۔‘‘
یہ بڑی چادروں (جلابیب) سے سر لپیٹ کر اور سر اور چہرہ ڈھک کر نکلنے کا حکم چادر کا پردہ ہوا، اور شرفاء کے یہاں برقع کا رواج درحقیقت اسی حکم کی تعمیل کی خوبصورت شکل ہے۔
بہرحال یہ ہیں شرعی پردے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے پاک ارشادات، اور یہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمانوں کا ان اَحکامِ خداوندی پر عمل۔ نہ جانے ڈاکٹر صاحبہ کو پردے کے اندر وہ کون سی پیچیدگیاں نظر آگئیں جن کا علم -نعوذ باللہ- نہ اللہ تعالیٰ کو ہوا، نہ صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کو، اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی پاکیزہ خواتین کو، رضی اللہ عنہنّ۔ اللہ تعالیٰ عقل و ایمان اور عفت و حیا کی محرومی سے پناہ میں رکھیں۔

