بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

رشتہ‌دار‌نامحرَموں‌سے‌بھی‌پردہ‌ضروری‌ہے‌

سوال:۔

ہم غیرمحرَموں سے پردہ کرتی ہیں، لیکن ہماری ایک بزرگ خاتون کہتی ہیں کہ: ’’تم جو پردہ کرتی ہو صحیح نہیں ہے، تھوڑا بہت زمانے کے ساتھ بھی چلنا پڑتا ہے‘‘ وہ کہتی ہیں کہ: ’’چہرہ وغیرہ غیرمحرَموں کے سامنے کھول سکتے ہیں‘‘ وہ کہتی ہیں کہ: ’’حج میں بھی تو عورتیں چہرہ وغیرہ کھلا رکھتی ہیں‘‘ آپ ضرور تفصیل سے جواب دیں کہ عورتیں حج میں اپنا چہرہ کیوں کھلا رکھتی ہیں؟

جواب:۔

جس طرح مرد کو اِحرام کی حالت میں سلا ہوا کپڑا پہننا اور سر ڈھانکنا جائز نہیں،(۱) اسی طرح چہرے کو کپڑا لگانا عورت کو اِحرام کی حالت میں جائز نہیں۔(۲) چنانچہ عورت کو یہ حکم ہے کہ اِحرام کی حالت میں اس طرح پردہ کرے کہ کپڑا منہ کو نہ لگے۔ اب اگر آپ کی بزرگ خاتون جیسا کوئی عقل مند لوگوں کو یہ تبلیغ کرتا پھرے کہ: ’’جس طرح مردوں کو وہاں کُرتا شلوار پہننا جائز نہیں تو یہاں بھی جائز نہیں‘‘ تو آپ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گی؟ وہی رائے اس بزرگ خاتون کے بارے میں قائم کرلیجئے۔۔۔ ! علاوہ ازیں اِحرام کی حالت میں چہرہ ڈھکنا تو جائز نہیں لیکن پردہ کرنا وہاں بھی فرض ہے،(۳) اور لوگوں کے سامنے کھلے بندوں پھرنا حرام ہے، اب اگر بعض بیوقوف عورتیں اس پر عمل نہیں کرتیں تو ان کا فعل شریعت تو نہیں۔ رہا اس بزرگ خاتون کا یہ کہنا کہ: ’’تھوڑا بہت زمانے کے ساتھ بھی چلنا پڑتا ہے‘‘ بالکل غلط ہے، ’’چلو تم اِدھر کو جدھر کی ہوا ہو‘‘ دُنیا پرستوں اور کافروں کا شیوہ تو ہوسکتا ہے، کسی مؤمن کا نہیں۔ کیونکہ کوئی مسلمان خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرکے زمانے کی ہوا کا ساتھ نہیں دے سکتا، ورنہ پھر مسلمان اور کافر کے درمیان کیا فرق رہ جائے گا۔۔۔ !

  1. (۱) ولَا یلبس قمیصًا ولَا سراویل ولَا عمامۃ ولَا خفین ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۳۹، باب الْإحرام)۔
  2. (۲) لقولہ علیہ السلام: إحرام الرجل فی رأسہ وإحرام المرأۃ فی وجھھا۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۳۹، باب الْإحرام)۔
  3. (۳) عن عائشۃ قالت: کان الرکبان یمرون بنا ونحن مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مَحرَمات فإذا جاوزوا بنا سدلت إحدانا جلبابھا من رأسھا علٰی وجھھا، فإذا جاوزونا کشفناہ۔ رواہ أبوداوٗد۔ (مشکٰوۃ ص:۲۳۶، باب ما یجتنبہ المحرم)۔