بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

کیا‌عورت‌کھیلوں‌میں‌حصہ‌لے‌سکتی‌ہے؟

سوال:۔

پچھلے دنوں اخبار ’’جنگ‘‘ میں پروفیسر وارث میر صاحب نے عورتوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے، پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ: ’’عورت بغیر پردہ یعنی کہ منہ چھپائے بغیر باہر نکل سکتی ہے، کھیلوں میں حصہ لے سکتی ہے، مردوں کے شانہ بشانہ کام کرسکتی ہے‘‘ یہ کہاں تک صحیح ہے کہ عورت بغیر پردہ کئے باہر نکل سکتی ہے؟ جبکہ عورت کی ساری خوبصورتی اس کے چہرے سے ہی معلوم ہوتی ہے۔ اس چہرے کے مسئلے کو تفصیلاً تحریر کریں۔ دُوسرا سوال یہ ہے کہ ہم لوگ جو آج کل کے دور میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، آیا اس کے لئے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا؟ نیز عورتوں کو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا یا وکالت کرنا یا جج کے فرائض انجام دینا کہاں تک صحیح ہے؟ ضرور تحریر کریں۔

جواب:۔

پروفیسر وارث میر کا فتویٰ غلط ہے۔ بے پردگی، فحاشی کی بنیاد ہے، اور اِسلام فحاشی کو برداشت نہیں کرتا۔(۱) عورت کے لئے قرآنِ کریم کا حکم یہ ہے کہ وہ بغیر شدید ضرورت کے گھر سے ہی نہ نکلے،(۲) اور اگر ضرورت کی بنا پر نکلے تو جلباب (بڑی چادر جو پورے بدن کو ڈھانک لے) پہن کر نکلے، اور اس کا پَلّو چہرے پر لٹکائے رکھے،(۳) مرد اور عورت اپنی نظریں نیچی رکھیں اور عورتیں اپنے محرَموں کے سوا کسی کے سامنے اپنی زینت کا اظہار نہ کریں۔(۴) مجھے قرآنِ کریم میں کوئی ایسی آیت نہیں ملی جس میں عورتوں کو مردوں سے کندھا ملاکر (شانہ بشانہ) چلنے کا حکم دیا گیا ہو، اور جس میں یہ کہا گیا ہو کہ عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے کھیل کے میدان میں بھی جاسکتی ہیں۔ یہ آسمانِ مغرب کی ’’وحی‘‘ ہے جس نے مرد و زَن کا امتیاز مٹا ڈالا ہے، جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی یہ ہے کہ: ’’اللہ کی لعنت ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں، اور اللہ کی لعنت ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت کرتی ہیں۔‘‘(۵)

۲:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علومِ نبوّت لے کر آئے تھے اور آپ نے انہی کے حاصل کرنے کی ترغیب بھی دی ہے، اور اس کے فضائل بھی بیان فرمائے ہیں۔ دُنیاوی علوم انسانی ضرورت ہے اور حدودِ شریعت کے اندر رہتے ہوئے ان سے استفادہ بھی جائز ہے، لیکن جو علم، اَحکامِ الٰہیہ سے برگشتہ کردے (جیسا کہ آج کل عام طور سے دیکھنے میں آرہا ہے) وہ علم نہیں، جہل ہے۔

عورتوں کا میڈیکل سیکھنا، قانون پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ شرعی پردہ محفوظ رہے، ورنہ بے پردگی حرام ہے۔(۶) عورت کو جج بننا صحیح نہیں،(۷) لیکن اگر بنادیا گیا تو اس کا فیصلہ صحیح ہوگا، مگر حدود و قصاص میں عورت کا فیصلہ معتبر نہیں۔(۸)

  1. (۱) ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآءِ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡبَغۡيِ ﵞ سورة النحل ٩٠
  2. (۲) ﵟ وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰ ﵞ سورة الأحزاب ٣٣
  3. (۳) ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ﵞ سورة الأحزاب ٥٩ الآیۃ۔ روی البخاری عن عائشۃ قالت: خرجت سودۃ إلٰی أن قال فقال انہ قد اُذن لٰـکن ان تخرجن لحاجتکن۔ قلت یعنی اُذن لٰـکن ان تخرجن متجلببات۔ (تفسیر مظھری ج:۷ ص:۳۸۳، ۳۸۴، طبع مکتبہ اشاعت العلوم، دھلی)۔
  4. (۴) ﵟ قُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّواْ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِمۡ ﵞ الآیۃ، ﵟ وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ ﵞ۔۔۔ﵟ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ ﵞ سورة النور ٣٠ الآیۃ۔
  5. (۵) عن ابن عباس قال: لعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۴، باب المتشبّھین بالنساء)۔
  6. (۶) ﵟ قُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّواْ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِمۡ ﵞ الآیۃ،ﵟ وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ ﵞ۔۔۔ﵟ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ ﵞ سورة النور ٣٠ و ٣١۔
  7. (۷) والمرأۃ تقضی فی غیر حد وقود وان أثم المولی لھا لخبر البخاری لن یفلح قوم ولوا أمرھم إمرأۃ۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۴۴۰، کتاب القاضی إلی القاضی)۔
  8. (۸) قولہ: ویجوز قضاء المرأۃ فی کل شیء إلّا فی الحدود والقصاص ۔۔۔إلخ۔ (فتح القدیر ج:۵ ص:۴۸۶)۔