بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

عورت‌بازار‌جائے‌تو‌کتنا‌پردہ‌کرے؟

سوال:۔

اسلام میں آزاد عورت (یعنی آج کل کی گھریلو خاتون) کو غیرمحرَم سے پردے کا کیا حکم ہے؟ خصوصاً سورۂ اَحزاب کی آیت نمبر:۵۹ اور سورۂ نور کی آیت نمبر:۳۱ میں پردے کا جو حکم ہے، اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اور جہاں بھی پردے کا حکم دیا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کا کیا حکم دیا ہے؟ جناب! خصوصاً سورۂ اَحزاب کی آیت نمبر:۵۹ اگر تفصیل سے سمجھادیں تو مہربانی ہوگی۔

’’اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ واسطے بیبیوں اپنی کے اور بیٹیوں اپنی کے اور بیویوں مسلمانوں کی، کے نزدیک کرلیں اُوپر اپنے بڑی چادریں اپنی، یہ بہت نزدیک ہے اس سے کہ پہچانی جاویں پس نہ ایذا دی جاویں اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان۔‘‘ (سورۂ اَحزاب)

اور سورۂ نور میں پردے کے متعلق جو حکم آیا ہے، وہ بھی تفصیل سے سمجھادیں۔

جواب:۔

پردے کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر عورت کو گھر سے باہر جانے کی ضرورت پیش آئے تو بڑی چادر یا برقع سے اپنے پورے بدن کو ڈھانپ کر نکلے اور صرف راستہ دیکھنے کے لئے آنکھ کھلی رہے۔(۱) ان آیات کی تفسیر مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں دیکھ لی جائے۔

  1. (۱) وقد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: المرأۃ عورۃ فإذا خرجت استشرفھا الشیطان۔ رواہ الترمذی۔ عن ابن مسعود فإن ھٰذا لحدیث یدل علٰی انھا کلھا عورۃ غیر أن الضرورات مستثناۃ إجماعًا والضرورۃ قد تکون بأن لَا تجد المرأۃ من یأتی بحوائجھا من السوق ونحو ذالک فتخرج منفعۃ کاشفۃ احدی عینیھا لیشعر الطریق۔ (تفسیر مظھری ج:۶ ص:۴۹۵)۔