بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

بغیر‌دوپٹہ‌کے‌عورت‌کا‌کالج‌میں‌پڑھانا‌اور‌دفتر‌میں‌کام‌کرنا

سوال:۔

ہمارے تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم کا رواج ہے، شرعی لحاظ سے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ ہمارے تعلیمی اداروں میں خواتین ٹیچرز بغیر دوپٹے کے کلاسز لیتی ہیں، جبکہ اسکولوں میں مرد اساتذہ بھی ہوتے ہیں، کیا یہ دُرست ہے؟

سوال:۔

ہمارے ملک میں مخلوط ملازمت کا رواج ہے، سرکاری اور غیرسرکاری دفاتر میں جہاں صرف مرد کام کرتے ہیں، آفیسر اپنے لئے لیڈی سیکریٹری رکھتے ہیں، کیا ایسے دفاتر فحاشی کے اَڈّے نہیں کہلائیں گے؟ شرع کے لحاظ سے ایسی خواتین اور آفیسروں کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب:۔

یہ مخلوط نظامِ تعلیم بے خدا قوموں کا ایجاد کردہ ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ مرد، مرد نہ رہیں، اور عورتیں، عورتیں نہ رہیں، اسلام کے ساتھ اس نظام کا کوئی جوڑ نہیں۔

جواب:۔

یہ مخلوط ملازمت کا نظام، مخلوط تعلیم کا شاخسانہ ہے، جو مردانہ غیرت اور نسوانی حیا نکال پھینکنے کا نتیجہ ہے۔(۱)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الْإیمان بضع وسبعون شعبۃ ۔۔۔ والحیاء شعبۃ من الْإیمان، قال الشارح: والمراد بہ الحیاء الْإیمانی وھو خلق یمنع الشخص من الفعل القبیح بسبب الْإیمان کالحیاء عن کشف العورۃ والجماع بین الناس ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ ج:۱ ص:۶۰،۶۱، کتاب الْإیمان)۔ أیضًا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا لم تستحی فافعل ما شئت ۔۔۔إلخ۔ (رواہ ابوداوٗد، باب فی الحیاء)۔