پردہ
عمررسیدہعورتکااسکولمیںبچوںکوپڑھانا
سوال:۔
ایک ایسی عورت جو کہ اپنے تمام فرائض سے سبکدوش تقریباً ہوچکی ہے، اور اس کے بچے اسکول میں پڑھتے ہیں اور گھر میں فالتو ہوتی ہے، تو کیا وہ عورت اپنے گھر کے عین سامنے اسکول میں پڑھانے جاسکتی ہے؟ جبکہ علم کا حاصل کرنا ہر کسی پر فرض ہے، اور اس طریقے سے اس عورت کا وقت بھی اچھے کام میں صَرف ہوتا ہے۔
جواب:۔
اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو معاش سے فارغ کر رکھا ہے تو فرصت کو غنیمت سمجھ کر اپنی آخرت کی تیاری میں لگے، ذکر و اَذکار، تسبیحات، تلاوت اور نماز میں وقت گزارے، معاشی طور پر تنگ دست ہو تو ملازمت باپردہ کرسکتی ہے۔ جس علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، وہ یہ نہیں جو اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے۔(۱)
- (۱) عن عبداللہ بن عمرو بن العاص أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: العلم ثلاثۃ، ومَا سویٰ ذالک فھو فضل، آیۃ محکمۃ أو سنۃ قائمۃ أو فریضۃ عادلۃ۔ (رواہ ابوداوٗد ج:۲ ص:۴۳)۔ أیضًا: عن معاویۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من یرد اللہ بہ خیرًا یفقھہ فی الدین، وإنما أنا قاسم واللہ یعطی۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۲)۔ وعن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طلب العلم أی الشرعی (فریضۃ) أی مفروض فرض عین (علٰی کل مسلم) أو کفایۃ والتاہ للمبالغۃ أی ومسلمۃ کما فی روایۃ قال الشراح المراد بالعلم ما لَا منذوجۃ للعبد من تعلمہ کمعرفۃ الضانع والعلم بوحدانیتہ ونبوۃ رسولہ وکیفیۃ الصلاۃ فإن تعلمہ فرض عین ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ ج:۱ ص:۲۳۳)۔

