بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

اجنبی‌عورت‌کو‌بطور‌سیکریٹری‌رکھنا

سوال:۔

آج کل کے دور میں مخلوط ملازمت کا سلسلہ چل رہا ہے، اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پرائیویٹ آفس میں لیڈیز سیکریٹری رکھی جاتی ہیں اور مالکان اپنی سیکریٹریوں سے خوش گپیوں میں مصروف ہوتے ہیں، حالانکہ اسلام میں عورت کا نامحرَم کے سامنے بے پردہ نکلنا حرام ہے۔ برائے مہربانی تحریر فرمائیں کہ اس مسئلے کے متعلق شرع کیا حکم دیتی ہے؟

جواب:۔

حکم ظاہر ہے کہ اجنبی عورت سے خلوَت کرنا اور اس سے خوش گپیوں میں مشغول ہونا شرعاً حرام ہے،(۱) اس لئے عورت سیکریٹری رکھنا جائز نہیں۔

  1. (۱) الخلوۃ بالأجنبیۃ حرام۔ (شامی ج:۶ ص:۳۶۸)۔ أیضًا: ولَا یکلم الأجنبیۃ إلّا عجوزًا ۔۔۔إلخ۔ قال العلامۃ ابن عابدین: أی وإلّا تکن عجوزًا بل شابۃ لَا یشمتھا۔ (شامی ج:۶ ص:۳۶۹، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی النظر والمس)۔