بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

بیٹی‌کے‌انتقال‌کے‌بعد‌اس‌کے‌شوہر‌(داماد)‌سے‌بھی‌پردہ‌ہے؟

سوال:۔

میری والدہ جن کی عمر تقریباً ۳۵-۴۰ سال کے قریب ہے، وہ نوجوانی میں ہی ہم سات بہن بھائیوں کی موجودگی میں ۱۲ سال قبل بیوہ ہوگئی تھیں، انہوں نے بڑے مشکل وقت میں ہماری پروَرِش کی ہے، مگر دو سال قبل والدہ صاحبہ نے ایک شخص (جو کہ ان کا ہی ہم عمر ہے) کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا اور ہم سب بہن بھائیوں کی مخالفت کے باوجود انہوں نے اس شخص سے ہماری چھوٹی بہن کی شادی کردی، جبکہ وہ شخص پہلے سے اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہے اور میری بہن کی عمر کی اس کی بیٹی ہے، والدہ نے اس شخص سے ملنا نہیں چھوڑا اور ہم سے کہا کہ یہ میرا داماد ہے، دُنیا کا کوئی قانون مجھے میرے داماد سے ملنے سے روک نہیں سکتا۔ شادی کے پانچ مہینے بعد میری بہن کا انتقال ہوگیا اور میری والدہ ابھی تک اس شخص سے ملتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ بیٹی کے مرنے سے داماد کا رشتہ نہیں ٹوٹتا اور داماد سے پردہ جائز نہیں۔

جواب:۔

داماد سے پردہ نہیں ہوتا، لیکن اگر دونوں جوان ہوں تو پردہ لازم ہے۔(۱) ایسا نہ ہو کہ شیطان دونوں کا منہ کالا کردے، آپ کی والدہ کا وہاں جانا جائز نہیں۔

  1. (۱) قولہ والصھرۃ الشابۃ قال فی القنیۃ: ماتت عن زوج وام فلھما أن یسکنا فی دارٍ واحدۃٍ إذا لم یخافا الفتنۃ وإن کانت الصھرۃ شابۃٌ فللجیران أن یمنعوھا منہ إذا خافوا علیھما الفتنۃ۔ (شامی ج:۶ ص:۳۹۹، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔