بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

چہرہ،‌ہاتھ،‌پاؤں‌کیا‌پردے‌میں‌داخل‌ہیں؟

سوال:۔

کیا عورت کے لئے چہرے کا پردہ نہیں ہے؟ نیز یہ بتائیے کہ عورت کو کن کن حصوں کا کھولنا منع ہے؟ اور عورت کے لئے چچازاد، خالہ زاد جیسے رشتہ داروں سے پردہ کرنا کیسا ہے؟ حدیث سے جواب دیں۔ کیا یہ دُرست ہے کہ جن سے عورت کا نکاح جائز ہے ان سے پردہ ضروری ہے، چاہے وہ رشتہ دار ہوں؟

جواب:۔

چہرہ اور ہاتھ پاؤں ستر میں داخل نہیں، لیکن پردے کے لئے چہرہ ڈھانکنا بھی ضروری ہے تاکہ نامحرَم نظریں چہرے پر نہ پڑیں۔(۱) نامحرَم وہ لوگ ہیں جن سے نکاح جائز ہے، ان سے پردہ ہے۔(۲)

  1. (۱) وللحرۃ جمیع بدنھا حتّٰی شعرھا النازل فی الأصح خلا الوجہ والکفین ۔۔۔ والقدمین علی المعتمد۔ (شامی ج:۱ ص:۴۰۶)۔ وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ من کشف الوجہ بین رجال لَا لأنہ عورۃ بل لخوف الفتنۃ۔ (أیضًا شامی ج:۱ ص:۴۰۶، باب شروط الصلاۃ، مطلب فی ستر العورۃ)۔
  2. (۲) (ومن محرمہ) ھی من لَا یحل لہ نکاحھا أبدھًا بنسب ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۲۸، کتاب الکراھیۃ، شامی ج:۶ ص:۳۶۷، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔