بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

شوہر‌کے‌کہنے‌پر‌پردہ‌چھوڑنا

سوال:۔

ایک اچھے گھرانے کی لڑکی جو بچپن سے جوانی تک شریعت کے مطابق پردہ کرتی ہو، لیکن شادی کے بعد اگر شوہر اسے برقع اُتارنے پر مجبور کرے یا صرف چہرہ ہی کھولنے پر مجبور کرے تو کیا ایسی صورت میں لڑکی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مکمل برقع اُتار دے یا چہرہ کھول کر مردوں میں آزادنہ گھومتی رہے، میرے محدود علم کے مطابق پردہ مسلمان عورتوں پر بالکل اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح نماز اور روزہ مسلمانوں پر فرض ہے، کیا مرد کی جانب سے اس قسم کی سختی پر عمل کرنا جائز ہے؟ شریعت اس کے لئے کیا حکم صادر کرتی ہے؟ آج کے معاشرے میں بعض لڑکیاں بچپن سے جوانی تک شریعت کے مطابق پردہ کرتی ہیں، لیکن شادی کے فوراً بعد اپنی مرضی سے پردہ ختم کردیتی ہیں اور اس کا سارا اِلزام عموماً شوہروں پر ڈال دیا جاتا ہے، میں آپ سے یہ کہنا چاہوں گا کہ شریعت اس قسم کے معاملے پر کیا حکم دیتی ہے؟

جواب:۔

پردہ شرعی حکم ہے، شوہر کے کہنے پر نہ چہرہ کھولنا جائز ہے اور نہ پردے کا چھوڑنا ہی جائز ہے۔(۱) شوہر اگر مجبور کرے تو اس سے طلاق لے لی جائے تاکہ وہ ایسی بیوی لاسکے جو ہر ایک کو نظارۂ حسن کی دعوت دے۔ اور خود پردہ چھوڑ کر شوہر پر اِلزام دھرنا غلط ہے، لیکن ان کے گناہ میں شوہر بھی برابر کے شریک ہیں، کیونکہ وہ بے پردگی کو برداشت کرتے ہیں۔(۲)

  1. (۱) وعن النواس بن سمعان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۳۲۱، کتاب الْإمارۃ، الفصل الأوّل، طبع قدیمی)۔
  2. (۲) عن عبداللہ بن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ۔۔۔ والرجل راع علٰی أھل بیتہ وھو مسئول عن رعیتہ۔ (مشکٰوۃ المصابیح ص:۳۲۰، کتاب الْامارۃ والقضاء)۔ عن عبداللہ بن مسعود قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ۔۔۔ ومن رضی عمل قوم کان شریکًا لعملہ۔ (المطالب العالیۃ بزوائد المسانید الثمانیۃ ج:۲ ص:۴۲، رقم الحدیث:۱۶۰۵)۔