پردہ
پردےسےمتعلقچندسوالاتکےجوابات
سوال:۔
بندہ آپ سے پردے کے بارے میں درج ذیل سوالات کا شرعِ متین کی رُو سے جوابات کا خواہاں ہے:
سوال۱:۔
ایک مسلمان عورت کو اپنے رشتہ داروں میں سے کن کن مردوں سے پردہ کرنا ضروری ہے؟
سوال۲:۔
مسلمان عورتوں کے لئے پردے کی فرضیت قرآن مجید کی کن آیات سے ہوئی؟
سوال۳:۔
ہمارے موجودہ معاشرے میں عورتوں کا بے پردہ باہر نکلنا اور دفاتر و فیکٹریوں میں ملازمت کرنا ایک معمول بن چکا ہے اور معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ ایسے بگڑے ہوئے ماحول میں مرد نگاہ کی حفاظت کیسے کرسکتے ہیں؟ راستوں اور بسوں میں باوجود کوشش کے بار بار نظر پڑجانے سے گناہ ہوگا یا نہیں؟
جواب۱:۔
ایسے رشتہ دار جن سے عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا، جیسے: باپ، دادا، بھائی، بھتیجے، بھانجے، چچا، ماموں وغیرہ، وہ عورت کے ’’محرَم‘‘ کہلاتے ہیں،(۱) ان سے عورت کا پردہ نہیں۔ اور وہ تمام لوگ جن سے نکاح ہوسکتا ہے ان سے پردہ لازم ہے، جیسے: ماموںزاد، چچازاد، پھوپھی زاد، خالہ زاد وغیرہ وغیرہ۔(۲)
جواب۲:۔
پردے کی فرضیت قرآنِ کریم کی متعدّد آیات سے ثابت ہے، مثلاً:
سورۂ اَحزاب کی آیت نمبر:۳۳ میں ارشادِ خداوندی ہے:
ﵟ وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰۖ ﵞ الأحزاب ٣٣
ترجمہ:۔ ’’اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو، اور قدیم زمانۂ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو۔‘‘
دُوسری جگہ ارشاد فرمایا:
ﵟ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوۡ ءَابَآئِهِنَّ أَوۡ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآئِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ أَخَوَٰتِهِنَّ أَوۡ نِسَآئِهِنَّ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّٰبِعِينَ غَيۡرِ أُوْلِي ٱلۡإِرۡبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفۡلِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يَظۡهَرُواْ عَلَىٰ عَوۡرَٰتِ ٱلنِّسَآءِۖ ﵞ النور ٣١
ترجمہ:۔ ’’اور اپنی زیبائش کو کسی پر ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوند کے یا اپنے باپ کے، یا اپنے خاوند کے باپ کے، یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے خاوند کے بیٹوں کے، یا اپنے بھائیوں کے، یا اپنے بھتیجوں کے، یا اپنے بھانجوں کے، یا اپنی ہم جنس عورتوں کے، یا اپنی باندیوں کے، یا ان ملازموں کے جو عورت کی زیب و زینت سے غرض نہیں رکھتے، یا ان لڑکوں کے جو عورت کے اسرار سے بے خبر ہیں۔‘‘
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّۚ ﵞ الأحزاب ٥٩
ترجمہ:۔ ’’اے نبی! کہہ دیجئے اپنی عورتوں کو اور اپنی بیٹیوں کو اور مسلمانوں کی عورتوں کو کہ نیچے لٹکالیں اپنے اُوپر تھوڑی سی اپنی چادریں۔‘‘
جواب۳:۔
عورت کا ایسی جگہ ملازمت کرنا حرام ہے، جہاں اس کا اختلاط اجنبی مردوں سے ہوتا ہو۔ اور ایسے گندے ماحول میں، جو کہ ہمارے یہاں پیدا ہوچکا ہے، ایک ایسے شخص کو اپنی نگاہ کی حفاظت نہایت ضروری ہے جو اپنا ایمان سلامت لے جانا چاہتا ہو۔ قصداً کسی نامحرَم کی طرف نظر بالکل ہی نہ کی جائے اور اگر اچانک نظر بہک جائے تو فوراً ہٹالی جائے۔(۳)
- (۱) ومحرمہ ھی من لَا یحل لہ نکاحھا أبدًا بنسب أو بسبب۔ (درمختار مع ردالمحتار ج:۶ ص:۳۶۷، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔
- (۲) ﵟ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّۖ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوۡ ءَابَآئِهِنَّ ﵞ سورة النور ٣١
- (۳) عن جریر بن عبداللہ قال: سألت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن نظر الفجائۃ فأمرنی أن أصرف بصری۔ (مشکٰوۃ ص:۲۶۸، کتاب النکاح، باب النظر إلی المخطوبۃ، الفصل الأوّل)۔

