بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

پردے‌کے‌مخالف‌والدین‌کی‌اطاعت‌ضروری‌نہیں،‌نیز‌بہنوئیوں‌سے‌بھی‌پردہ‌ضروری‌ہے

سوال:۔

علمائے کرام سے سنا ہے کہ بیٹے پر شریعتِ اسلامیہ کی رُو سے والدین کی اطاعت اس حد تک واجب ہے کہ اگر وہ حکم دیں کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو وہ طلاق دے دے۔ دُوسری طرف سے شریعتِ اسلامیہ میں شادی کو سنتِ مؤکدہ قرار دیا گیا ہے، اور بیوی کے پردے کو واجب یا فرضِ عین۔ اور خاص کر حدیثِ نبوی میں بیوی کو شوہر کے بھائیوں سے سختی کے ساتھ پردہ کرنے کا حکم ہے۔ میری شادی کو ہوئے تین سال کا عرصہ ہوا ہے، میں نے شریعتِ اسلامیہ کی رُو سے بیوی کو اپنے (شوہر کے) بھائیوں (حقیقی و سوتیلے) سے پردے کا حکم دیا ہے۔ اس لئے وہ شرعی حکم کی تعمیل میں سخت پردہ کرتی ہے۔ ان (بیوی) کی دُوسری چار (غیرشادی شدہ) بہنیں بھی ہیں۔ اب مجھے سخت مسائل درپیش ہیں، جن سے سخت نالاں ہوں، اور محسوس ہوتا ہے کہ شریعت کے یہ دو اَحکام ایک دُوسرے سے ٹکرا رہے ہیں، وہ یہ کہ میرے بھائی صاحبان اور میرے والدین مجھ سے اس بات (پردہ مذکورہ پر) سے سخت خفا ہیں، خط و کتابت بند کردی ہے، اب اگر میں شادی نہ کرتا تو سنتِ مؤکدہ ترک ہوجاتی، اگر شادی کرلی تو بیوی کا پردہ واجب ہوگیا۔ اِدھر سے والدین کی اطاعت بھی واجب۔ اگر پردے والے شرعی حکم کو مانتا ہوں اور اس پر عمل کروں گا تو والدین کی اطاعت جو شرعاً واجب ہے، ترک ہوگی۔ اور اگر والدین کا حکم اور منشاء کی اطاعت کروں گا تو پردہ جو (شرعاً واجب ہے) کا ترک لازم آئے گا۔ دُوسری طرف سے سسرال کا تکرار ہے کہ باقی جو میری سالیوں کی شادی جب ہوجائے گی، تو ان ہم دامادوں سے بھی بیوی کو پردہ نہ کرانا، اور بیوی کی بھی یہی تکرار ہے، اور اندیشہ قطعی ہے کہ اگر میں بیوی کو اپنے ہم داماد بھائیوں سے جب شرعی پردے کا حکم دُوں گا تو میرے گھر کا ماحول انتہائی خراب ہوگا۔ بیوی کا حق مہر جو پچّیس ہزار روپے میرے ذمہ غیرمؤجل ہیں کا مطالبہ ہوگا، میں ایک غریب آدمی ہوں، آفس میں کلرک ہوں، ماہانہ تنخواہ سے گھر کا گزارا کفایت کرکے بمشکل ہوتا ہے، حق مہر کے لئے اپنی ماہانہ آمدنی سے ایک پیسہ بھی نہیں بچایا جاسکتا۔ تقریباً اندازہ ہے کہ حق مہر کی رقم میں (اگرچہ انکار نہیں مگر) ادا تازیست نہ کرسکوں گا۔ خدارا! آپ سے دست بستہ عرض ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کی رُو سے مجھے اپنے آئندہ موقف مناسبہ اختیار کرنے کی رہنمائی فرمائیے گا۔ میں آپ کے لئے تاحیات دُعا کرتا رہوں گا۔ اللہ پاک آپ کے اور آپ کے اہل و عیال کے علم میں اضافہ فرمائے اور اَجرِ عظیم عنایت فرمائے، آمین!

جواب:۔

والدین کا یہ کہنا کہ بھائیوں سے بیوی کو پردہ نہ کرنے کا کہو، خلافِ شرع ہے۔ اور ان کے ایسے حکم کی تعمیل گناہ ہے۔(۱) والدین نے اگر محض اس وجہ سے تعلق ختم کردیا ہے تو وہ گنہگار ہیں، آپ ان سے تعلق قطع نہ کریں۔ آپ کے سسرال والوں کا یہ مطالبہ کہ آپ کی بیوی اپنے بہنوئیوں سے پردہ نہیں کرے گی، یہ بھی خلافِ شریعت ہے۔ اگر آپ کی بیوی اصرار کرے تو اس کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سمجھائیے، لیکن اگر وہ اس پر راضی نہ ہو بلکہ طلاق کا مطالبہ کرے تو اس سے کہئے کہ خلع کرے، یعنی مہر معاف کرنے کی شرط پر طلاق لے لے۔

  1. (۱) عن النواس بن سمعان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ (مشکٰوۃ ص:۳۲۱)۔