پردہ
عورتکامردوںکوخطابکرنا،نیزعورتسےگفتگوکسطرحکیجائے؟
سوال۱:۔
کیا عورت غیرمحرَم مردوں کے جلسے میں وعظ یا اصلاحِ معاشرہ یا اصلاحِ رُسوم کے سلسلے میں تقریر کرسکتی ہے؟ (پردہ چاردیواری میں ہے)۔
سوال۲:۔
کیا عورت بلاضرورت غیرمحرَم کو اپنی آواز سناسکتی ہے؟
سوال۳:۔
کیا حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہما یا دیگر صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہنّ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسے نیک لوگوں سے پردے میں وعظ یا تقریر کی؟
سوال۴:۔
صحابہ کرامؓ بوقتِ ضرورت اُمت کی ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیسے مسئلہ معلوم کرتے تھے؟
جواب۱:۔
نامحرَموں کے سامنے بے پردہ تقریر کرنا جائز نہیں، حرام ہے۔(۱) اور بوقتِ ضرورت پردے کے ساتھ گفتگو جائز ہے، مگر لب و لہجے میں سختی و درشتی ہونی چاہئے، جس سے دُوسرے آدمی کو عورت کی طرف کشش پیدا نہ ہو۔(۲)
آج کل جو جلسوں میں خواتین و حضرات کا مشترکہ خطاب ہوتا ہے، یہ جاہلیتِ جدیدہ کی بدعتِ سیئہ ہے۔
جواب۲:۔
بلا ضرورت جائز نہیں، خصوصاً جبکہ فتنے کا اندیشہ ہو، اور مجمع بازاری لوگوں کا ہو،(۳) اسی لئے کہا گیا ہے:
نہ تنہا عشق از دیدار خیزد
بسا ایں دولت از گفتار خیزد
جواب۳:۔
بلا پردہ تقریر کرنا ثابت نہیں، نہ بلا ضرورت۔ پھر ’’مسلمانوں کی ماں‘‘ پر آج کی عورت کو اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقدس معاشرے پر آج کے گندے معاشرے کو قیاس کرنا بدعقلی ہے۔
جواب۴:۔
قرآنِ کریم میں ہے: ﵟ فَسۡـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَآءِ حِجَابٖۚ ﵞالأحزاب ٥٣ (ترجمہ: ازواجِ مطہراتؓ سے کچھ پوچھنا ہو تو پس پردہ پوچھو) اس لئے پردے کے پیچھے سوال کرتے تھے۔
- (۱) ولَا نجیز لھن رفع أصواتھن ولَا تمطیطھا ولَا تلیینھا وتقطیعھا لما فی ذالک من استمالۃ الرجال إلیھن وتحریک الشھوۃ منھم۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۴۰۶، باب شروط الصلٰوۃ، مطلب فی ستر العورۃ)۔
- (۲)ﵟ يٰنِسَآءَ ٱلنَّبِيِّ لَسۡتُنَّ كَأَحَدٖ مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِنِ ٱتَّقَيۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِٱلۡقَولِ فَيَطۡمَعَ ٱلَّذِي فِي قَلۡبِهِۦ مَرَضٞ وَقُلۡنَ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا ﵞ سورة الأحزاب ٣٢۔ مسئلۃ: المرأۃ مندوبۃ إلی الغلظۃ فی المقال إذا خاطبت الأجانب لقطع الْإطماع۔ (تفسیر المظھری ج:۷ ص:۳۳۸)۔
- (۳) ولَا نجیز لھن رفع أصواتھن ولَا تمطیطھا ولَا تلیینھا وتقطیعھا لما فی ذالک من استمالۃ الرجال إلیھن وتحریک الشھوۃ منھم۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۴۰۶، باب شروط الصلٰوۃ، مطلب فی ستر العورۃ)۔

