پردہ
بھابھیسےپردےکیحد
سوال:۔
ہم دو ساتھی ہیں اور الحمدللہ ہم دونوں نے اپنے اپنے گھروں میں شرعی پردے کا مکمل اہتمام کیا ہے، لیکن میرا ساتھی مجھے اس پر تنگ کرتا ہے کہ: ’’آپ شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اپنی بھابھیوں سے پردہ نہیں کرتے اور اس کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہو‘‘ جبکہ اعتراض کنندہ کا کوئی اور بھائی نہیں ہے جس کی بناء پر وہ اعتراض کرتا ہے اور ہم تین بھائی ہیں، تینوں شادی شدہ ہیں۔ آپ کا تحریر کردہ ایک مسئلہ بندہ نے اعتراض کنندہ کو پیش کیا کہ ضرورت کے وقت بھابھی سے بات بھی کی جاسکتی ہے اور بھابھی، ہاتھ، پاؤں اور چہرہ ننگا کرسکتی ہے۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ: ’’اس مسئلے کے ساتھ کوئی دلیل مذکور نہیں ہے، اس لئے میں اس کی تقلید نہیں کرتا۔‘‘ لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کو وضاحت کے ساتھ قرآن و سنت کی روشنی میں بیان فرمائیں۔
جواب:۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’جو رشتہ دار محرَم نہیں، مثلاً: خالہ زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد بھائی یا بہنوئی یا دیور وغیرہ جوان عورت کو ان کے رُوبرو آنا اور بے تکلف باتیں کرنا ہرگز نہیں چاہئے، اگر مکان کی تنگی یا ہر وقت کی آمد و رفت کی وجہ سے گہرا پردہ نہ ہوسکے تو سر سے پاؤں تک کسی میلی چادر سے ڈھانک کر شرم و لحاظ سے بضرورت رُوبرو آجائے اور کلائی، بازُو، سر کے بال اور پنڈلی ان سب کا ظاہر کرنا حرام ہے، اسی طرح ان لوگوں کے رُوبرو عطر لگاکر عورت کو آنا جائز نہیں، اور نہ بجتا ہوا زیور پہنے۔‘‘ (تعلیم الطالب ص:۵)۔(۱)
- (۱) تفصیل کے لئے دیکھیں: إمداد الفتاویٰ ج:۴ ص:۱۷۷۔

