پردہ
نرسکےلئےمردکیتیمارداری
سوال:۔
عام طور سے مسلمان لڑکیاں نرسنگ کورس کو اپنانے سے گریز کرتی ہیں، میں نے یہ سوچ کر نرسنگ ٹریننگ میں داخلہ لیا تھا کہ ہماری جیسی مسلمان لڑکیاں بھی آگے آئیں اور اس پیشے کو اپنائیں، لیکن اس پیشے میں مرد اور عورت دونوں کی تیمارداری کرنا پڑتی ہے۔ لڑکی ہونے کی حیثیت سے عورتوں اور بچوں کا کام تو کرسکتی ہیں، لیکن مردانہ وارڈ میں زخم وغیرہ کی مرہم پٹی ایک غیرمرد کی کیا ایک مسلمان لڑکی کے لئے صحیح ہے؟ مہربانی فرماکر اِسلام اور شریعت کی روشنی میں تفصیلی جواب دیں۔
جواب:۔
مردوں کی مرہم پٹی اور تیمارداری کے لئے مردوں کو مقرّر کیا جانا چاہئے، نامحرَم عورتوں سے یہ خدمت لینا جائز نہیں۔(۱)
- (۱) ولَا یمس الرجل المرأۃ وھما شابان سواء کانت الصغیرۃ ماسۃ والبالغ ماس۔ (البحر ج:۸ ص:۱۹۹)۔

