بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

گھر‌سے‌باہر‌پردہ‌نہ‌کرنے‌والی‌خواتین،‌گھر‌میں‌رشتہ‌داروں‌سے‌کیوں‌پردہ‌کرتی‌ہیں؟

سوال:۔

ہمارے ہاں اب پردہ ایک نیا رُخ اختیار کرچکا ہے، وہ یہ کہ عورتیں، لڑکیاں ویسے تو کھلے عام پھرتی ہیں، خوب شاپنگ کرتی ہیں اور کسی کے دیکھنے نہ دیکھنے کی کوئی پروا نہیں کرتیں، مگر وہ جب اپنے گھروں میں ہوتی ہیں، اگر اس وقت کوئی مہمان یا کوئی اور آجائے تو فوراً پردہ کرلیتی ہیں اور ہرگز کسی کے سامنے نہیں آتیں۔ آپ بتاسکتے ہیں کہ مسلمان عورتوں، لڑکیوں کے اس ماڈرن پردے کی اسلام میں کوئی شق موجود ہے؟ اگر نہیں تو پھر اپنے گھر میں آنے والے شریف لوگوں سے پردہ چہ معنی دارد، جبکہ اس طرح شریف لوگوں کی دِل شکنی بھی ہوتی ہے جو بذاتِ خود ایک بڑا گناہ ہے۔

جواب:۔

اِعتراض صحیح چیز پر نہیں، غلط پر ہوتا ہے۔ آپ کو اِعتراض ’’ماڈرن بے پردگی‘‘ پر ہونا چاہئے جو بے حیائی کی حدود سے بھی کچھ آگے نکل گئی ہے، پردہ بہرحال پردہ ہے، وہ محلِ اِعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ جو عورت خدا اور رسول کا حکم سمجھ کر پردہ کرے گی وہ خدا اور رسول کی رضامندی کی مستحق ہوگی، اور جو فیشن کے طور پر کرے گی وہ اس رضامندی سے محروم رہے گی۔(۱)

  1. (۱) عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إنّما الأعمال بالنّیّات وإنّما لِامریء ما نویٰ۔ الحدیث۔ (بخاری ج:۱ ص:۲، باب کیف کان بدء الوحی)۔