بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

کن‌لوگوں‌سے؟‌اور‌کتنا‌پردہ‌ضروری‌ہے؟

سوال:۔

میں ایک معزّز سیّد گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں، ہمارے گھر میں پردہ بھی ہوتا ہے مگر اپنے عزیز و اقارب سے نہیں، جبکہ میں اپنے تمام نامحرَم رشتہ داروں سے پردہ کرنا چاہتی ہوں۔ اب جبکہ میں نے ایسا کیا تو دُوسرے لوگوں کے علاوہ اپنے والدین کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ میں ٹی وی نہیں دیکھتی ہوں اور غیرمردوں کی تصاویر بھی نہیں دیکھتی ہوں، امی ابو پریشان ہیں۔ پلیز مجھے قرآن و سنت کی روشنی میں بتلائیے کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ میں اپنے والدین کو اپنی وجہ سے پریشان اور مغموم نہیں دیکھ پاتی ہوں، مگر خدا کے اَحکام کی خلاف ورزی بھی نہیں چاہتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے باریک لباس پر اعتراض فرمایا تھا تو یہ بھی فرمایا تھا کہ مجبوری کی حالت میں عورت اپنے قریبی محرَم کے سامنے چہرہ کھول سکتی ہے، اس سلسلے میں بھی وضاحت کردیں تو مشکور ہوں گی، کیا ہم اپنے کزن (خالہ زاد، چچازاد وغیرہ) کے سامنے چہرہ کھول سکتی ہیں؟

جواب:۔

جس شخص کے ساتھ عورت کا نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہو وہ ’’محرَم‘‘ کہلاتا ہے۔(۱) اور جس سے کسی وقت نکاح جائز ہوسکتا ہے وہ عورت کے لئے ’’نامحرَم‘‘ ہے، اور شرعاً نامحرَم سے پردہ ہے۔(۲) اس لئے خالہ زاد، چچازاد سے بھی پردہ کرنا چاہئے، اگر کبھی کبھار مجبوری سے کسی نامحرَم کے سامنے آنا پڑے تو چہرہ چھپالینا چاہئے۔(۳) نامحرَم رشتہ داروں سے بے تکلفی کے ساتھ باتیں کرنا اور بے حجاب ان سے اختلاط کرنا شرعاً و اخلاقاً زہرِ قاتل ہے۔

  1. (۱) ومحرمہ ھی من لَا یحل لہ نکاحھا أبدًا بنسب أو بسبب۔ (درمختار مع ردالمحتار ج:۶ ص:۳۶۷، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔
  2. (۲) ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ﵞ سورة الأحزاب ٥٩
  3. (۳) تمنع من الکشف لخوف أن یری الرجال وجھھا فتقع الفتنۃ۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۴۰۶، باب شروط الصلاۃ)۔