بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

سن‌رسیدہ‌خواتین‌کے‌لئے‌پردے‌کا‌حکم

سوال:۔

دستور کمیشن کے سربراہ مولانا ظفر احمد انصاری نے اپنے ایک بیان میں فرمایا ہے کہ ۴۵-۴۰ سال کی عمر پر پہنچنے کے بعد عورت کے لئے شریعت میں پردے کی شرائط بھی نرم ہوجاتی ہیں۔ اس سلسلے میں آپ سے یہ دریافت کرنا ہے کہ کیا اس عمر میں عورتوں کو مردوں کے ساتھ دفتروں میں کام کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے یا دُوسرے کاموں میں مردوں کے ساتھ رہ سکتی ہیں؟ وزارت، سفارت کے منصب پر مقرّر کی جاسکتی ہیں؟ غرضیکہ کہاں تک پردے کے اَحکام میں نرمی برتی جاسکتی ہے؟

جواب:۔

پردے کے اَحکام نرم ہوجانے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اب اس پر نسوانی اَحکامات جاری نہیں ہوتے۔ جو کام مردوں کے ہیں، یا جن کاموں میں غیرمردوں کے ساتھ بے محابا اِختلاط یا تنہائی کی نوبت آتی ہے وہ اب بھی جائز نہیں ہوں گے۔(۱)

  1. (۱) عن ابن عباس أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یخلون رجل بإمرأۃ إلّا مع ذی محرم ۔۔۔إلخ۔ (صحیح البخاری ج:۲ ص:۷۸۷، باب لَا یخلونّ رجل بإمرأۃ إلّا ذو محرم)۔