بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

کیا‌پردہ‌صرف‌آنکھوں‌کا‌ہوتا‌ہے‌یا‌برقع‌اور‌چادر‌بھی‌ضروری‌ہے؟

سوال:۔

آج کل کے جدید دور میں یہ کہا جارہا ہے کہ پردہ صرف آنکھوں کا ہوتا ہے، اگر خواتین آنکھیں نیچی یا حفاظت کرکے چلیں تو برقع یا چادر کی کوئی ضرورت نہیں، کہاں تک دُرست ہے؟

جواب:۔

کیا دورِ جدید میں قرآنِ کریم کی وہ آیات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات منسوخ ہوگئے جن میں حجاب (پردے) کا حکم ہے؟ اور اگر آنکھیں نیچی کرنے کے حکم پر ساری دُنیا، مسلم و غیرمسلم عمل کیا کرتی تو آپ کہہ سکتے تھے کہ جب کوئی دیکھنے والا ہی نہیں تو پردہ کس سے کریں؟ لیکن جب آوارہ نظریں چارسو کھلے چہروں کا تماشا دیکھ رہی ہوں تو کیا ان کی گندگی سے بچنے کے لئے پردے کی ضرورت نہ ہوگی؟(۱)

  1. (۱) ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ﵞ سورة الأحزاب ٥٩ﵟ وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ ﵞ سورة النور ٣١۔ أیضًا: وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین الرجال لَا لأنہ عورۃ بل لخوف الفتنۃ ۔۔۔إلخ۔ وفی الشامیۃ: لأنہ مع الکشف قد یعق النظر إلیھا بشھوۃ۔ (شامی ج:۱ ص:۴۰۶، باب شروط الصلاۃ)۔