پردہ
منہبولاباپ،بھائی،بیٹااجنبیہیں،شرعاًانسےپردہلازمہے
سوال:۔
مولانا! ہم پردیس میں رزق کی تلاش میں آنے والوں کی زندگی بھی ایک عجیب تماشا ہے۔ وہی حساب ہے کہ ’’نکلے تری تلاش میں اور خود ہی کھوگئے۔‘‘ ہم اپنا وطن، اپنا گھربار اور اپنے پیاروں کو ہزاروں میل دُور چھوڑ کر رزقِ حلال کے ذریعے اپنے پیاروں کی خوشیاں خریدنے نکلے تھے، لیکن اپنی خوشیاں اور ذہنی سکون بھی گنوا بیٹھے ہیں۔ جیسا کہ وطن میں بسنے والے لوگوں کا بلکہ خود ہم پردیس میں رہنے والے لوگوں کے گھر والوں کا خیال ہے کہ یہاں کھجور کے درختوں پر ریال، دِینار اور دِرہم و ڈالر لٹکتے ہیں، صرف ہاتھ بڑھاکر توڑنے کی دیر ہے، حالانکہ اپنے وطن، اپنے والدین، بیوی بچوں سے دُوری کا عذاب، دیارِ غیر کی سختیاں، حقارت آمیز سلوک، مشین کی طرح کام کرنا، یہاں پر گزرا ہوا ایک سال اپنے وطن کے دس سال کے برابر ہوجاتا ہے۔ صبح سے شام تک بے تکان کام اور جب تھکے ہارے بستر پر لیٹو تو گھر والوں کی یاد، ان کی فکریں، خط نہیں آیا تو ایک پریشانی، پھر ملکی حالات۔ ایک طرف یہ زندگی، دُوسری طرف گھروں کے سربراہ یعنی کوئی باپ ہے، شوہر ہے، بھائی ہے ان کے پردیس چلے جانے سے اور وطن میں ان کی بیویوں، بیٹیوں، بیٹوں اور ماؤں کے تنہا رہ جانے سے جو ذہنی اُلجھنیں پیدا ہو رہی ہیں۔ معاشرتی مسائل بن رہے ہیں، جن گھروں کو ہم نے اس صحرا کی تپتی ریت میں اپنے خون پسینے کی کمائی سے بنایا تھا، ان کی دیواریں گر رہی ہیں، ہم لوگ اپنے ہی گھروں میں اجنبی بن کر رہ گئے ہیں، ہماری واپسی کے ذِکر سے بھی ہمارے گھر والوں کے چہرے اُتر جاتے ہیں اور ہم صرف روپیہ کمانے کی مشین بن کر رہ گئے ہیں۔
میں اس سمع خراشی کی دست بستہ معافی چاہتا ہوں، آپ کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے، لیکن جس معاشرتی مسئلے کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کرا رہا ہوں، وہ بھی مذہبی اور معاشرتی نقطۂ نگاہ سے کم اہم نہیں ہے، اس کی وجہ سے بہت سے گھر برباد ہو رہے ہیں، خوشگوار ازدواجی زندگیاں نفرت، رُسوائی اور جدائی کا شکار ہو رہی ہیں، اس بات کو اس طرح دیکھیں۔
زید نے مسماۃ زاہدہ سے شادی کی، خاندانی و معاشرتی لحاظ سے، مذہبی لحاظ سے دونوں کے گھرانے قابلِ فخر اور قابلِ عزّت ہیں، دونوں میں حد درجہ باہمی محبت اور اِتحاد ہے، خلوص ہے۔ شوہر کا بیوی پر اور بیوی کا شوہر پر اِعتماد ہے۔ بیوی شوہر کا ہر مشکل اور ہر پریشانی، غربت میں ساتھ دیتی ہے، بیوی کا کوئی سگا بھائی نہیں ہے، بیوی عمر کو بھائی بناتی ہے اور عمر یہ کہتا ہے کہ یہ میری سگی بہن کی طرح ہے، (عمر بھی شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہے)، زید کو خدا پر اور اپنی بیوی کے کردار پر بے اِنتہا بھروسہ ہے، جس شخص کو بھائی بنایا گیا ہے وہ بھی ایک شریف اور ایک اعلیٰ کردار کا حامل شخص ہے، لیکن زید بار بار اپنی بیوی کو یہ سمجھاتا رہا کہ: ’’ٹھیک ہے، مجھے تم پر بھروسہ ہے لیکن اس منہ بولے رشتے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، اور خاص کر اس صورت میں کہ جب کسی عورت کا شوہر، باپ یا بھائی پردیس میں ہو تو اسے کسی نامحرَم سے اس طرح میل ملاقات کرنا نہیں چاہئے، آخرکار اس میں رُسوائی ہے۔‘‘ لیکن بیوی ضد کرتی ہے اور زور دیتی ہے کہ: ’’نہیں! عمر میرے سگے بھائیوں کی طرح ہے اور میں ملوں گی‘‘ ان باتوں کا اثر یہ ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ دونوں کے درمیان جو خلوص، محبت اور ہمدردی کا بندھن تھا، کمزور پڑنے لگتا ہے، قربتیں دُوریوں میں بدل جاتی ہیں۔ اور اگر شوہر واپسی کا اِرادہ ظاہر کرتا ہے تو بیوی دُوسروں کی رائے اور مشورے سناتی ہے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ معاشی حالات ملک کے خراب ہیں اس لئے زید کو آنا نہیں چاہئے۔ ان مشیروں میں منہ بولے بھائی بھی شامل ہیں، جو تنہائی میں زید کو ہمیشہ پُرزور مشورہ دیتے ہیں کہ اسے واپس آجانا چاہئے۔
آخرکار بدترین اندیشے رنگ لاتے ہیں، لوگ اُنگلیاں اُٹھانے لگتے ہیں، اِلزام لگاتے ہیں اور بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ زید قتل کرنے پر بھی تیار ہوجاتا ہے۔ مولانا! یہ ایک زید کی کہانی نہیں ہے، ایسی ہزاروں کہانیاں جنم لے رہی ہیں، کئی گھربار برباد ہو رہے ہیں، رشتے ٹوٹ رہے ہیں، بچے بے گھر ہو رہے ہیں۔ خدارا! اپنے کالم میں اس موضوع پر قلم اُٹھائیں اور بتائیں کہ اسلام میں، قرآن میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشادات کی روشنی میں ان منہ بولے رشتوں کی کیا حقیقت ہے؟ اور ایک عورت کے لئے کسی نامحرَم شخص سے منہ بولے بھائی کی حیثیت سے بھی اس طرح ملنا، اسے شوہر پر ترجیح دینا، اور جبکہ بات عزّت و رُسوائی تک آپہنچے، اس کے باوجود یہ زور دے کر کہنا کہ: ’’میرا ضمیر صاف ہے، میں ملوں گی!‘‘ کہاں تک جائز ہے؟ اور مذہب میں ان باتوں کی کیا سزا یا جزا ہے؟ اسلام نے ہر عورت اور مرد کے لئے میل ملاپ کی حدیں مقرّر کی ہیں۔ یہ تو ان بھائی بنانے والی عورتوں کو معلوم ہونا چاہئے اور ان بھائی بننے والے مردوں کو اپنی بہنوں کی عزّت کا خیال رکھنا چاہئے کہ ان کی وجہ سے ان کی بہنوں کی عزّت پر حرف آرہا ہے، ان کے گھر برباد ہو رہے ہیں، لیکن ہمارے معاشرے کو کیا ہوا ہے؟ ہر شخص خود سر، خود غرض ہوچکا ہے۔
جواب:۔
شریعت میں منہ بولے بیٹے، باپ یا بھائی کی کوئی حیثیت نہیں،(۱) وہ بدستور اجنبی رہتے ہیں اور ان سے عورت کو پردہ کرنا لازم ہے۔ اس منہ بولے کے چکر میں سینکڑوں خاندان اپنی عزّت و آبرو نیلام کرچکے ہیں، اس لئے اس عورت کا یہ کہنا کہ: ’’میں منہ بولے بھائی سے ضرور ملوں گی‘‘ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اور بے حیائی کی بات ہے۔ اور یہ کہنا کہ: ’’میرا ضمیر صاف ہے!‘‘ کوئی معنی نہیں رکھتا، کیونکہ گفتگو ضمیر کے صاف ہونے نہ ہونے پر نہیں، کسی کے ضمیر کی خبر یا تو اس کو ہوگی یا اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں کہ کس کا ضمیر کس حد تک صاف ہے۔ گفتگو تو اس پر ہے کہ جب منہ بولا بھائی شرعاً اجنبی ہے تو اجنبی مرد سے (شوہر کی طویل غیرحاضری میں) مسلسل ملنا کیونکر حلال ہوسکتا ہے؟ اگر اس کا ضمیر صاف بھی ہو تب بھی تہمت اور اُنگشت نمائی کا موقع تو ہے، اور حدیث میں ایسے مواقع سے بچنے کی تاکید آئی ہے، حدیث میں ہے:
’’اِتَّقُوْا مَقَامَ التُّہْمَۃِ!‘‘(۲)
ترجمہ:۔ تہمت کے مقام سے بچو!‘‘
- (۱) قال تعالٰی:ﵟ وَمَا جَعَلَ أَدۡعِيَآءَكُمۡ أَبۡنَآءَكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ قَوۡلُكُم بِأَفۡوَٰهِكُمۡۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ ﵞ سورة الأحزاب ٤
- (۲) لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: ’’إتقوا مواضع التھم‘‘ ھو معنٰی قول عمر: من سلک مسالک التھم إتھم ۔۔۔إلخ۔ (الموضوعات الکبریٰ ص:۴۹، طبع قدیمی)۔

